
اکثر ہم سونے کی آسمان کو چھوتی قیمتوں کو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں، لیکن دنیا میں ایک ایسا مادہ بھی موجود ہے جس کے سامنے سونا بھی ’’کوڑیوں‘‘ کے مول لگتا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں کیلیفورنیم (Californium) کی، جسے دنیا کا سب سے مہنگا مادہ مانا جاتا ہے۔ اس کی قیمت کا اندازہ اسی بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ صرف ایک گرام کیلیفورنیم خریدنے کے لیے تقریباً 200 کلو سونا بیچنا پڑ سکتا ہے۔
1950 میں ہوئی تھی دریافت
سونے یا چاندی کی طرح کیلیفورنیم زمین کی کانوں سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ مکمل طور پر انسان کا بنایا ہوا (مین میڈ) عنصر ہے۔ یہ ایک مصنوعی اور تابکار عنصر ہے، جسے سن 1950 میں امریکا کی ریاست کیلیفورنیا میں دریافت کیا گیا تھا۔
کیسے تیار کیا جاتا ہے؟
کیلیفورنیم کی تیاری نہایت پیچیدہ اور انتہائی مہنگا عمل ہے۔ سائنس دان ایٹمی ری ایکٹروں میں بھاری عناصر کو طویل عرصے تک نیوٹران ریڈی ایشن کے سامنے رکھتے ہیں، تب جا کر کیلیفورنیم تیار ہوتا ہے۔ یہ عمل اتنا سست اور مشکل ہے کہ دنیا میں صرف چند ہی ممالک اس کو بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، اور اس کی پیداوار بھی مائیکروگرام کے پیمانے پر ہوتی ہے۔
اتنی زیادہ قیمت کیوں؟
اگر قیمت کی بات کریں تو عالمی بازار میں ایک گرام کیلیفورنیم کی قیمت تقریباً 27 ملین ڈالر (یعنی تقریباً 244 کروڑ روپے) بتائی جاتی ہے۔ اس کی بلند قیمت کی سب سے بڑی وجہ اس کی سائنسی افادیت ہے۔ کیلیفورنیم کو نیوکلیئر ری ایکٹروں کو شروع کرنے کے لیے نیوٹران سورس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ میڈیکل سائنس میں بھی بعض خاص اقسام کے کینسر کے علاج، خاص طور پر نیوٹران تھراپی میں اس کا استعمال ہوتا ہے۔
’نایابی‘ اور ’افادیت‘ ہی اصل خزانہ
کیلیفورنیم کی یہ ناقابلِ یقین قیمت اس بات کا ثبوت ہے کہ سائنس کی دنیا میں اصل دولت ’’نایابی‘‘ اور ’’افادیت‘‘ ہی ہے۔ اگرچہ عام انسان کے لیے سونا سب سے قیمتی دھات سمجھا جاتا ہے، لیکن انسانی ذہن اور جدید ٹیکنالوجی سے لیبارٹری میں تیار کیا گیا یہ عنصر بتاتا ہے کہ علم اور سائنس کی قدر کسی بھی قدرتی دولت سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
&imwidth=600&imheight=450&format=webp&quality=medium)






