
انڈیگو کی ایک ہزار سے زیادہ پروازوں کی منسوخی کے معاملے میں دائر عوامی مفاد کی درخواست پر سپریم کورٹ نے سماعت سے انکار کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ وہ ایئر لائن نہیں چلا سکتی، یہ حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حکومت پہلے ہی اس معاملے پر کارروائی کر رہی ہے۔ سپریم کورٹ کے وکیل نریندر مشرا نے پی آئی ایل دائر کرتے ہوئے پورے بحران پر خود نوٹس اور فوری مداخلت کی مانگ کی تھی۔ درخواست میں متاثرہ مسافروں کے لیے متبادل سفر اور معاوضہ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔
درخواست کے اہم الزامات
درخواست میں دعویٰ کیا گیا کہ اچانک پروازیں منسوخ ہونے سے مسافروں کو شدید پریشانی اور انسانی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ چھ بڑے میٹرو شہروں میں ایئر لائن کا آن ٹائم پرفارمنس گھٹ کر 8.5 فیصد رہ گیا۔ ہزاروں مسافر، جن میں بزرگ، بچے، معذور اور بیمار لوگ شامل تھے، گھنٹوں ایئرپورٹ پر پھنسے رہے۔ نہ کھانے پینے کا انتظام تھا، نہ آرام کی جگہ، نہ دوائیاں اور نہ ہی رہائش کی سہولت۔ کئی صورتوں میں ہنگامی طبی ضروریات کو بھی نظرانداز کر دیا گیا۔
پائلٹوں کی کمی اور حکومت کی کارروائی
درخواست میں کہا گیا کہ پروازیں منسوخ کرنے کے پیچھے نئے ایف ڈی ٹی ایل (فلائٹ ڈیوٹی ٹائم لمیٹیشن) قواعد کی غلط تشریح کی گئی۔ جبکہ ایئر لائن نے اس کی ذمہ داری پائلٹوں کی کمی، موسم، تکنیکی خرابیوں اور نئے قواعد پر ڈالی۔ تاہم انڈیگو نے فی الحال نیا اصول نافذ کرنا واپس لے لیا ہے۔نئے ایف ڈی ٹی ایل ضوابط کے تحت پائلٹوں کی ہفتہ وار آرام کی مدت 12 گھنٹے سے بڑھا کر 48 گھنٹے کر دی گئی تھی اور ہفتے میں صرف دو نائٹ لینڈنگ کی اجازت تھی، جب کہ پہلے یہ تعداد چھ تھی۔
بحران بڑھنے کے بعد مرکزی حکومت نے پروازوں میں بے قاعدگیوں کے اسباب اور ذمہ داریوں کی جانچ کے لیے ہائی لیول انکوائری کمیٹی تشکیل دی ہے۔ ساتھ ہی ڈی جی سی اے کے نئے ایف ڈی ٹی ایل اصولوں کو فوری طور پر روک دیا گیا ہے۔







