
نئی دہلی: حکومت ہند نے جمعرات کو موبائل فونز پر سنچار ساتھی (Sanchar Saathi) ایپ کی لازمی تنصیب (Pre-Installation) کا فیصلہ واپس لے لیا۔ یہ فیصلہ اس اعلان کے چند ہی دن بعد کیا گیا ہے جس میں بھارت میں تیار یا درآمد کیے جانے والے تمام موبائل فونز میں اس ایپ کی پری انسٹالیشن کو لازم قرار دیا گیا تھا۔ وزارت مواصلات نے کہا کہ ہندوستان میں اس ایپ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیش نظر اب اسے لازمی قرار دینے کی ضرورت نہیں رہی۔
وزارت کا موقف: ’’ایپ صرف تحفظ کے لیے‘‘
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ حکومت کا مقصد شہریوں کو سائبر سکیورٹی کی سہولت فراہم کرنا تھا، اسی مقصد کے تحت اس ایپ کی تنصیب کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ بیان میں مزید کہا گیا: ’’یہ ایپ سائبر جرائم سے بچانے کیلئے بنائی گئی ہے اور کسی دوسرے مقصد کیلئے استعمال نہیں ہوتی۔ صارف چاہیں تو کسی بھی وقت اس ایپ کو ڈلیٹ کر سکتے ہیں۔‘‘ وزارت کے مطابق یہ ایپ شہریوں کو سائبر دھوکہ دہی رپورٹ کرنے میں مدد دیتی ہے اور ’’جن بھاگیداری‘‘ کے اصول کو مضبوط کرتی ہے۔
بڑھتی مقبولیت اور اعداد و شمار
وزارت نے بتایا کہ اب تک 1.4 کروڑ افراد یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کر چکے ہیں اور روزانہ تقریباً 2000 دھوکہ دہی کے معاملات کی اطلاع ایپ کی مدد سے دی جا رہی ہے۔ صرف گزشتہ ایک دن میں ہی 6 لاکھ صارفین نے رجسٹریشن کیا، جو اس کی مقبولیت اور عوامی اعتماد کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔ وزارت کے مطابق ایپ کی لازمی تنصیب کا مقصد صرف ان شہریوں تک پہنچنا تھا جو ٹیکنالوجی کے استعمال میں کم واقف ہیں۔
پارلیمنٹ میں وضاحت اور جاسوسی کے خدشات پر ردعمل
قبل ازیں لوک سبھا میں وزیر ٹیلی مواصلات جیوترادتیہ سندھیا نے واضح کیا تھا کہ یہ ایپ خفیہ نگرانی یا جاسوسی کے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: ’’اگر ایپ فون میں انسٹال ہو بھی تو جب تک صارف خود اس پر رجسٹریشن نہ کرے، یہ فعال نہیں ہوتی اور اسے جب چاہیں ڈیلیٹ کیا جا سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں ایک ارب موبائل صارفین ہیں اور کچھ عناصر موبائل ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرتے ہیں، لہٰذا حکومت کی ذمہ داری ہے کہ شہریوں کو محفوظ بنایا جائے۔







