
نئی دہلی: دہلی کی کرسی اورسیاست دونوں بدل گئی، لیکن مٹیا محل میں قدآوراورسینئرلیڈرشعیب اقبال کا سیاسی دبدبہ قائم ہے۔ دہلی میں حکومتیں آئیں اورچلی گئیں، لیکن شعیب اقبال کی سیاست پرکسی طرح کا اثرنہیں پڑا۔ دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) ضمنی الیکشن میں آل انڈیا فارورڈ بلاک کے محمد عمران کو جیت دلاکرشعیب اقبال نے ایک بارپھرثابت کردیا ہے کہ پرانی دہلی علاقے میں ان کا دبدبہ اب بھی قائم ہے۔ ساتھ ہی ان کے بیٹے آل محمد اقبال نے عام آدمی پارٹی سے بغاوت کرکے پارٹی کے دیگرمسلم لیڈران اوراراکین اسمبلی کو ان کی حیثیت دکھا دی۔ انہوں نے نہ صرف اپنے والد کے ساتھ مل کرمحمد عمران کوجیت دلائی بلکہ پارٹی کے دیگرمسلم اراکین اسمبلی کے قد کوچھوٹا کردیا اورخود کو ثابت کرکے دکھا دیا۔
دہلی ایم سی ڈی کی 12 سیٹوں پرضمنی الیکشن کے نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے۔ بی جے پی 7 سیٹیں، عام آدمی پارٹی تین سیٹیں، کانگریس ایک سیٹ اورایک سیٹ آل انڈیا فارورڈ بلاک کے کھاتے میں گئی ہے۔ ایم سی ڈی الیکشن میں سب سے بڑی جیت چاندنی محل وارڈ سے شعیب اقبال کے امیدوارمحمد عمران کی رہی توسب سے کم ووٹوں سے نرائنا وارڈ میں عام آدمی پارٹی کو جیت ملی۔ ضمنی الیکشن میں بی جے پی کو دوسیٹوں کا نقصان ہوا ہے جبکہ کانگریس کوایک سیٹ کا فائدہ ہوا ہے۔ ایک سیٹ جوآل انڈیا فارورڈ بلاک (دیگر) کوملی ہے، وہاں پرپہلے عام آدمی پارٹی کا قبضہ تھا۔ شعیب اقبال کوناراض کرنا عام آدمی پارٹی کومہنگا پڑگیا۔ اس ایک سیٹ کی ہارکی وجہ سے عام آدمی پارٹی نے بی جے پی پرسبقت بنانے کا بہترین موقع گنوا دیا۔
چاندنی محل سیٹ پر سب سے بڑی جیت
دہلی کے مسلم اکثریتی حلقہ چاندنی محل وارڈ سے آل انڈیا فاروڈ بلاک کے امیدوارمحمد عمران نے جیت درج کی ہے۔ 2022 میں یہ سیٹ عام آدمی پارٹی نے دہلی میں سب سے زیادہ ووٹوں سے جیتی تھی۔ سابق رکن اسمبلی شعیب اقبال کے بیٹے آل محمد اقبال عام آدمی پارٹی کے ٹکٹ پرالیکشن لڑکر17134 ووٹوں کے بڑے فرق سے کانگریس امیدوارکوہرایا تھا۔ آل محمد اقبال کو 19119 ووٹ ملے تھے جبکہ کانگریس امیدوارکو صرف 2065 ووٹ ملے تھے۔ اس طرح 2022 میں دہلی کی یہ سب سے بڑی جیت رہی تھی اورتین سال بعد پھرچاندنی محل سیٹ کی جیت سب سے بڑی بن گئی ہے۔ آل انڈیا فارورڈ بلاک کے محمد عمران نے اپنے حریف امیدوارعام آدمی پارٹی کے مدثرعثمان کو 4692 ووٹوں سے ہرایا ہے۔ محمد عمران کو 11814 ووٹ ملے تو وہیں مدثرعثمان کو7122 ووٹ ملے ہیں۔
شعیب اقبال کی بغاوت سے عام آدمی پارٹی کو بڑا نقصان
چاندنی محل سیٹ سے کونسلر رہے آل محمد اقبال کے 2025 میں رکن اسمبلی بننے سے ضمنی الیکشن ہوا ہے۔ ایسے میں چاندنی محل سیٹ پر ضمنی الیکشن میں شعیب اقبال اپنے پسندیدہ امیدوارکوعام آدمی پارٹی کا ٹکٹ دلانا چاہتے تھے، لیکن پارٹی نے ان کی مرضی کے مطابق امیدوارکوٹکٹ نہیں دیا۔ اس سے ناراض ہوکرشعیب اقبال نے پارٹی چھوڑدی تھی۔ انہوں نے آل انڈیا فارورڈ بلاک پارٹی کے امیدوارمحمد عمران کو الیکشن لڑایا۔ شعیب اقبال کی ناراضگی عام آدمی پارٹی کومہنگی پڑگئی۔ شعیب اقبال نے اپنی بادشاہت برقراررکھتے ہوئے اپنے امیدوارمحمد عمران کو بڑے فرق سے جیت دلائی۔ تین دہائیوں سے چاندنی محل علاقے میں پرانی دہلی کے عظیم لیڈراورسابق رکن اسمبلی شعیب اقبال کی فیملی کا قبضہ رہا ہے۔ چاندنی محل وارڈ کے ضمنی الیکشن کا اعلان ہونے کے ساتھ ہی سابق رکن اسمبلی شعیب اقبال نے عام آدمی پارٹی چھوڑدی اورشعیب اقبال کے بیٹے آل محمد اقبال نے پارٹی لائن سے الگ ہوکراپنے والد کے ساتھ عمران کوجیت دلانے میں کامیاب رہے۔
شعیب اقبال کے سامنے عام آدمی پارٹی کے مسلم اراکین اسمبلی ناکام
شعیب اقبال مٹیا محل اسمبلی سیٹ سے 6 بار رکن اسمبلی رہے ہیں۔ اس بار انہوں نے اپنے بیٹے آل محمد اقبال کوعام آدمی پارٹی سے الیکشن لڑوایا اورانہوں نے جیت بھی حاصل کی۔ آل محمد اقبال کے رکن اسمبلی بننے کے سبب چاندنی محل وارڈ میں ضمنی الیکشن ہوئے۔ شعیب اقبال اپنے قریبی کوامیدواربنانا چاہتے تھے۔ عام آدمی پارٹی سے ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے شعیب اقبال نے پارٹی چھوڑدی۔ اس کے بعد انہوں نے آل انڈیا فارورڈ بلاک کے امیدوار محمد عمران کوجتانے کے لئے پوری طاقت لگا دی تھی۔ چاندنی محل وارڈ مٹیا محل اسمبلی سیٹ کا حصہ ہے۔ اس اسمبلی سیٹ اورچاندنی محل وارڈ پرلمبے وقت سے شعیب اقبال کا قبضہ ہے۔ شعیب اقبال صرف ایک بار2015 کا الیکشن چھوڑکر1993 سے مسلسل مٹیا محل سے جیت حاصل کرتے رہے ہیں۔
آل محمد اقبال نے ایم ایل اے شپ کی نہیں کی پرواہ
شعیب اقبال کے بیٹے آل محمد اقبال موجودہ وقت میں مٹیا محل سیٹ سے رکن اسمبلی ہیں اوراس سے پہلے چاندنی محل سے کونسلرتھے۔ اس طرح شعیب اقبال کا سیاسی دبدبہ پورے علاقے میں قائم ہے، جسے وہ کسی بھی صورت میں اپنے ہاتھوں سے نہیں نکلنے دینا چاہتے ہیں۔ وہیں شعیب اقبال کو شکست دینے کے لئے عام آدمی پارٹی اورکانگریس دونوں نے داوچلے۔ سابق رکن اسمبلی عاصم احمد خان کودوبارہ عام آدمی پارٹی نے اپنے ساتھ لیا۔ بڑے مسلم چہرے کے طورپراوکھلا کے رکن اسمبلی امانت اللہ خان، سابق وزیراوربلیماران کے رکن اسمبلی عمران حسین اورسیلم پورکے رکن اسمبلی چودھری زبیراحمد وغیرہ نے پارٹی کے سینئرلیڈران کے ساتھ چاندنی محل میں خوب جلسے کئے، لیکن شعیب اقبال اورآل محمد اقبال کے سامنے یہ تمام کوششیں رائیگاں چلی گئیں اورشعیب اقبال کا دبدبہ برقراررہا۔ وہیں آل محمد اقبال نے پارٹی لائن سے ہٹ کراپنے ایم ایل اے شپ کی پرواہ نہیں کی اورپارٹی کے سینئرلیڈران کے خلاف کھل کرکھڑے نظرآئے اوراپنے والد کے ساتھ کندھا سے کندھا ملاکرمحمد عمران کوجیت دلانے میں اہم رول ادا کیا۔
شعیب اقبال کی بادشاہت برقرار
سابق رکن اسمبلی شعیب اقبال نے چاندنی محل سیٹ سے محمد عمران کوجیت دلاکراپنا دبدبہ قائم رکھا ہے۔ ان کی اس مہم میں ان کے بیٹے آل محمد اقبال کا بھی اہم رول تھا۔ آل محمد اقبال نے عام آدمی پارٹی کی لائن سے ہٹ کر محمد عمران کو جتانے کے لئے پورا زورلگا رکھا تھا۔ کانگریس سے لے کرعام آدمی پارٹی تک نے شعیب اقبال کی بادشاہت ختم کرنے کے لئے سیاسی چال چلی تھی، لیکن چاندنی محل میں شعیب اقبال کی پسند پرعوام نے مہرلگا دی۔ سال 2015 میں مٹیا محل سیٹ پرشعیب اقبال کوہرانے والے اورسابق وزیرعاصم احمد خان کوساتھ لینا بھی کام نہیں آیا۔ مسلم اکثریتی سیٹ پرپھرشعیب اقبال نے ثابت کردیا ہے کہ ان کی مرضی کے بغیرچاندنی محل سیٹ پرایک پتہ بھی نہیں ہل سکتا ہے۔ اس طرح سے شعیب اقبال نے اپنے گڑھ میں اپنی بادشاہت کو قائم رکھا۔







