
دہلی میونسپل کارپوریشن (ایم سی ڈی) کے 12 وارڈوں میں ہوئے ضمنی انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے ہیں، جن میں عام آدمی پارٹی (عآپ) نے 3 وارڈ جیت کر اپنی موجودگی پھر مضبوط کی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے 7 سیٹوں پر قبضہ برقرار رکھا، جبکہ کانگریس اور آل انڈیا فارورڈ بلاک (اے آئی ایف بی) نے ایک ایک سیٹ اپنے نام کی۔ نتائج کے بعد دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اور آپ کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے کہا کہ دہلی کی عوام کا اعتماد ایک بار پھر تیزی سے عام آدمی پارٹی کی طرف لوٹ رہا ہے۔
کیجریوال کا ردِعمل
نتائج سامنے آنے کے بعد اروند کیجریوال نے ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ ایم سی ڈی ضمنی انتخاب نے دہلی کے سیاسی ماحول پر واضح پیغام دیا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ ’’اس بار عام آدمی پارٹی نے اپنے مخلص اور محنتی کارکنوں کو میدان میں اتارا اور دہلی کی عوام نے اپنے مینڈیٹ سے ثابت کر دیا ہے کہ عوامی حمایت لگاتار عام آدمی پارٹی کے ساتھ مضبوط ہو رہی ہے۔ صرف دس ماہ میں ہی عوام کا اعتماد تیزی سے ہماری طرف لوٹ رہا ہے۔ دہلی بہت جلد مثبت سیاست اور اچھے کاموں کی طرف واپس آ رہی ہے‘‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ لوگ بی جے پی کی پالیسیوں سے ناراض ہیں اور اب ایک بار پھر آپ کے ماڈلِ حکمرانی پر بھروسہ ظاہر کر رہے ہیں۔ کیجریوال کے مطابق یہ نتائج آنے والے دنوں میں دہلی کی سیاست میں نئے رجحان کو جنم دیں گے۔
یٹوں کا حساب
ان 12 وارڈوں پر پہلے بی جے پی کی گرفت مضبوط تھی، لیکن ضمنی انتخابات نے صورتحال کو بدل دیا۔ ضمنی انتخاب میں بی جے پی نے 7 سیٹیں جیتیں، جو پہلے کے مقابلے میں کمی ہے۔ دوسری جانب عام آدمی پارٹی نے 3 وارڈ جیت کر سیاسی میدان میں اپنی طاقت کا دوبارہ احساس دلایا۔ کانگریس اور آل انڈیا فارورڈ بلاک نے ایک ایک سیٹ اپنے نام کی۔ دہلی اسٹیٹ الیکشن کمیشن کے مطابق 143 پولنگ اسٹیشنوں کے 580 بوتھوں پر ووٹنگ ہوئی۔ یہ ضمنی انتخاب نئی وزیرِ اعلیٰ ریکھا گپتا کے لیے پہلی بڑی سیاسی آزمائش سمجھا جا رہا تھا۔
2022 کے پس منظر میں نتائج
سال 2022 کے ایم سی ڈی انتخابات میں بی جے پی نے 115 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔ اس بار پارٹی پوری امید میں تھی کہ وہ تمام 12 ضمنی سیٹیں جیت کر اپنا ’اسٹرائیک ریٹ‘ 100 فیصد رکھے گی، مگر نتائج نے ثابت کیا کہ دہلی کی سیاست نہ تو یک طرفہ ہے اور نہ ہی کسی کے لیے آسان۔ کانگریس اور آپ کی موجودگی نے مقابلے کو سہ طرفہ بنا دیا ہے، جس سے انتخابات کا سیاسی وزن اور بڑھ گیا ہے۔
کب ہوئے تھے انتخابات؟
ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ 30 نومبر کو ہوئی تھی، جس میں ووٹنگ فیصد کم رہا لیکن پورا انتخاب پُرسکون ماحول میں مکمل ہوا۔ کہیں سے بھی ہنگامہ آرائی یا ناخوشگوار واقعے کی اطلاع نہیں آئی۔ ووٹوں کی گنتی 3 دسمبر کی صبح شروع ہوئی اور دوپہر تک نتائج سامنے آتے ہی سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔







