
نئی دہلی: دہلی بلاسٹ کیس کی تحقیقات میں تیزی آگئی ہے۔ دہلی پولیس نے شہر کے تمام نجی اسپتالوں کو نوٹس جاری کرکے ان ڈاکٹروں کی معلومات فراہم کرنے کو کہا ہے جنہوں نے بیرونِ ملک سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی ہے اور اس وقت دہلی میں پریکٹس کر رہے ہیں۔
پولیس نے خاص طور پر پاکستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور چین سے ایم بی بی ایس کرنے والے ڈاکٹروں کے بارے میں تفصیلات طلب کی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ قدم سیکورٹی کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔ اس کے تحت اسپتال انتظامیہ کو بیرونِ ملک سے تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی مکمل معلومات پولیس کے حوالے کرنی ہوں گی۔
شعیب کو فریدآباد سے کیا گیا تھا گرفتار
اس سے قبل 26 نومبر کو دہلی بلاسٹ کیس میں این آئی اے (نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی) نے شعیب نامی ملزم کو 10 روزہ ریمانڈ پر لیا تھا۔ شعیب کو فریدآباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اسے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں ریمانڈ کی منظوری دی گئی۔ دہلی دھماکہ کیس کے ایک اور ملزم عامر راشد علی جس کی این آئی اے کی حراست اس دن ختم ہو رہی تھی، کو بھی عدالت میں پیش کیا گیا اور اس کی تحویل میں سات دن کی توسیع کر دی گئی۔
شعیب پر ڈاکٹر عمر کو پناہ دینے کا الزام
این آئی اے کے مطابق، شعیب نے ڈاکٹر عمر محمد (جو عمر النبی کے نام سے بھی مشہور ہے) کو دھماکے سے قبل پناہ دی تھی۔ اس کے علاوہ اس نے دھماکے کی منصوبہ بندی میں لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کی۔ یہ کار بم دھماکہ 10 نومبر کو لال قلعہ کے قریب ہوا تھا، جس میں کئی افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
معاملے میں گرفتار ساتواں ملزم ہے شعیب
شعیب اس معاملے میں گرفتار ساتواں ملزم ہے۔ اس سے قبل این آئی اے عمر کے چھ قریبی ساتھیوں کو گرفتار کرچکی ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ خودکش دھماکے سے متعلق تمام شواہد اور مشتبہ افراد تک پہنچنے کے لیے متعدد ریاستوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ این آئی اے کا مقصد ہے کہ پورا دہشت گرد نیٹ ورک بے نقاب کیا جائے اور اس کے تمام اراکین کو گرفتار کیا جائے۔







