
ہانگ کانگ میں بدھ کی رات پیش آنے والے بھیانک آتش زدگی کے واقعے نے شہر کو شدید صدمے اور سوگ میں مبتلا کر دیا۔ نیو ٹیریٹوریز کے تائی پو ضلع میں واقع وانگ فُک کورٹ نامی رہائشی کمپلیکس میں دوپہر کے وقت اچانک آگ بھڑک اٹھی، جو تھوڑی ہی دیر میں آٹھ میں سے سات بلند و بالا عمارتوں تک پھیل گئی۔ اس ہولناک حادثے میں کم از کم 44 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ 279 لوگوں کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے۔ ہزاروں رہائشیوں کو عمارتوں سے ہنگامی طور پر باہر نکالا گیا اور کئی گھنٹوں تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں۔
فائر بریگیڈ کے مطابق متاثرہ عمارتوں کی کھڑکیوں سے شعلے بلند ہوتے رہے اور دھوئیں کے بادل دور تک دکھائی دیتے رہے۔ جاں بحق افراد میں سے 40 نے موقع پر ہی دم توڑ دیا، جب کہ کم از کم 62 افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔ زخمیوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو شعلوں سے متاثر ہوئے یا دھوئیں کے زہر سے سانس کی تکلیف میں مبتلا ہو گئے۔
غفلت اور ناقص تعمیراتی مواد کی وجہ؟
پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ عمارتوں کی بیرونی دیواروں اور لفٹ کی لابی کے قریب اسٹائرو فوم اور دیگر انتہائی آتش گیر مواد استعمال کیا گیا تھا، جس نے آگ کو غیر معمولی شدت سے پھیلنے کا موقع دیا۔ حکام نے بتایا کہ یہ مواد عمارت کی حالیہ مرمت اور تعمیراتی کام کے دوران لگایا گیا تھا۔
پولیس کی سینئر سپرنٹنڈنٹ ایلین چونگ کے مطابق تعمیراتی کمپنی کے ذمہ دار عہدیداروں نے ’’سخت غفلت‘‘ کا مظاہرہ کیا اور اسی بنیاد پر تین افراد— ایک ڈائریکٹر، ایک ٹھیکیدار اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن پر غیر ارادی قتل (Manslaughter) کا مقدمہ چلایا جائے گا۔

ریسکیو آپریشن اور حکومتی ردِعمل
فائر سروس ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ چار عمارتوں میں آگ جزوی طور پر قابو میں ہے، مگر باقی حصوں میں آگ بجھانے کا کام جاری ہے۔ عمارتوں کے باہر نصب بانس کی اسکیفولڈنگ اور حفاظتی نیٹ درجہ حرارت اور دھوئیں کی شدت میں اضافے کا سبب بنے، جس سے ریسکیو ٹیموں کو شدید مشکلات کا سامنا رہا۔ تقریباً 900 افراد کو عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ سیکڑوں فائر فائٹرز، پولیس اہلکار اور طبی رضاکار جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔
چین کے صدر شی جن پنگ نے حادثے پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے اور متاثرین کے خاندانوں سے ہمدردی ظاہر کی ہے۔ شہر کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے کہا ہے کہ حکومت اس حادثے کو اولین ترجیح دے رہی ہے اور 7 دسمبر کو ہونے والے قانون ساز کونسل کے انتخابات سے متعلق عوامی سرگرمیاں فی الحال روک دی گئی ہیں۔یہ واقعہ ہانگ کانگ کے رہائشی ڈھانچوں کی سلامتی پر اہم سوالات کھڑے کرتا ہے اور توقع ہے کہ جامع انکوائری آگے کی غلطیوں کو روکنے میں مددگار ثابت ہوگی۔







