
نئی دہلی: دہلی کے انڈیا گیٹ پر آلودگی کے مسئلے پر ہونے والے مظاہرے میں کافی ہنگامہ ہوا اور اب دہلی پولیس نے اس معاملے میں سخت کارروائی شروع کر دی ہے۔ پولیس نے دو مختلف تھانوں، کرتویہ پتھ اور پارلیمنٹ روڈ میں ایف آئی آر درج کی ہے اور کل 22 مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ معلومات کے مطابق، کرتویہ پتھ تھانے نے چھ مرد مظاہرین کو گرفتار کیا ہے، جبکہ پارلیمنٹ روڈ تھانے کی ایف آئی آر میں 17 افراد کی گرفتاری ہوئی ہے۔
کر تویہ پتھ تھانے کی ایف آئی آر میں بی این ایس (بھارتی نیائے سنہیتا) کی متعدد دفعات لگائی گئی ہیں۔ ان میں عوامی امن کو خراب کرنا، سرکاری احکامات کی خلاف ورزی اور قانون و نظم سے متعلق دیگر جرائم شامل ہیں۔ جبکہ پارلیمنٹ روڈ تھانے میں درج ایف آئی آر میں عوامی نظام کو خراب کرنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت مختلف دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔
دہشت گردی کی حمایت میں نعرے بازی کا دعویٰ
پولیس کا کہنا ہے کہ یہ مظاہرہ صرف آلودگی کے مسئلے پر نہیں تھا، بلکہ نکسلی ازم اور دہشت گردی کی حمایت میں بھی نعرے بازی ہو رہی تھی۔ جب پولیس نے مظاہرین کو انڈیا گیٹ کے قریب سی ہیکساگون علاقے سے ہٹایا تو وہ سیدھے پارلیمنٹ روڈ تھانے کے باہر جمع ہو گئے۔ وہاں جا کر انہوں نے تھانے کا گیٹ اور ڈی سی پی آفس تک کا راستہ بلاک کر دیا، جس کی وجہ سے نہ کوئی اندر جا پا رہا تھا اور نہ باہر نکل پا رہا تھا۔
مظاہرین نے پولیس اہلکاروں پر کر دیا حملہ
پولیس کا الزام ہے کہ جب انہیں ہٹانے کی کوشش کی گئی تو کئی مظاہرین مشدد ہو گئے۔ انہوں نے پولیس اہلکاروں پر حملہ کیا اور خود بھی زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر ہاتھ پاؤں مارنے لگے، جس سے انہیں خود چوٹیں آئیں۔ بعد میں جب پولیس نے انہیں حراست میں لیا اور شناخت پوچھی، تو کسی نے درست معلومات نہیں دیں۔ الٹا، وہ پولیس پر ہی غلط الزامات لگانے لگے۔
قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پولیس نے 6 ملزمان کو پیش کیا، جہاں عدالت نے پانچ ملزمان کو دو دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا، جبکہ ایک ملزم کو سیف ہاؤس میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔







