
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر پشاور میں پیر 24 نومبر کو ایک خودکش حملہ ہوا۔ اس کے جواب میں پاکستانی فوج نے افغانستان میں بڑی کارروائی کی۔ اس بار پاکستانی فوج نے افغان رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ فضائی حملے میں دس افغان شہری مارے گئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں نو بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے تمام کی عمریں 10 سال سے کم بتائی جاتی ہیں۔ افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق حملہ افغان وقت کے مطابق رات 12 بجے ہوا اور پاکستانی فضائیہ نے خوست، قندھار اور پکتیکا صوبوں کو نشانہ بنایا۔ 10
ہلاکتوں کے علاوہ چار افراد زخمی ہوئے۔
پاکستان افغانستان میں رہائشی علاقوں کو بنا رہا ہے نشانہ
اکستانی فوج نے اکتوبر میں افغانستان کے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیاتھا۔ گزشتہ ماہ افغانستان میں ایک فضائی حملے کے دوران پاکستانی فوج نے رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایاتھا، جس میں 59 بے گناہ افغان ہلاک ہوئے تھے، جس کے نتیجے میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں دونوں ممالک
کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔
طالبان کے ترجمان نے کیا کہا
افغانستان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان ایسے حملوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور اپنی فضائی اور زمینی سرحدوں اور اپنے عوام کے دفاع کے اپنے قانونی اورمذہبی حق کا اعادہ کرتا ہے اورمناسب وقت پرضروری جواب دیا جائے گا۔ پاکستان نے گزشتہ رات پکتیکا، کنڑ اور خوست صوبوں میں حملے کیے، جن میں خوست کے گربازضلع میں ایک رہائشی مکان بھی شامل تھا، جس میں نو بچے ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ پاکستانی فوج نے پکتیکا کے ضلع برمل میں ایک مسجد پر فضائی حملہ کیا، جس میں دو افراد شدید زخمی ہوئے۔







