
مشہور بالی ووڈ اداکار دھرمیندر 89 سال کی عمر میں دنیا کو کہا الوداع، ان کی موت سے بالی ووڈ انڈسٹری غم میں ڈوبی۔ ان کی موت پر مداح اور مشہور شخصیات کے چہرے پر مایوسی چھائی ہوئی ہے ، ان کے آخری دیدار کے لیے بالی ووڈ کے کئی ستارے پہنچ چکے ہیں۔ بالی ووڈ اداکار عامر خان بھی غمگین آنکھوں اور چہرے پر مایوسی کے تاثرات کے ساتھ ہی مین کو آخری خراج عقیدت پیش کرنے پہنچے۔ اس واقعے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں۔ اداکاری کے شعبے میں “ہی-مین” کے لقب سے جانے جانے والے دھرمیندنے صرف فلمی دنیا میں ہی نہیں بلکہ سیاسی میدان میں بھی قدم رکھا تھا، حالانکہ ان کا سیاسی سفر فلمی کیریئر کی طرح کامیاب نہیں رہا۔ ان کا اصل نام دھرمیند کیول کرشن دیول تھا اور وہ 8 دسمبر 1935 کو پنجاب کے نسرالی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔
ان کی صحت کی طرف سے تشویشناک نشانیاں پہلے بھی ظاہر ہو چکی تھیں۔ 31 اکتوبر 2025 کو سانس لینے میں دشواری کے باعث انہیں بلیچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ بعد ازاں 10 نومبر کو ان کی حالت ‘انتہائی سنگین’ بتائی گئی تھی اور ان کے وینٹی لیٹر سپورٹ پر ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں تھیں۔ اس دوران انہیں کافی مشہور شخصیات نے اسپتال میں ملاقات کے لیے پہنچے تھے۔

دھرمیندر کے انتقال نے پورے ملک میں صدمے کی لہر بنی ہوئی ہے۔ فلمی حلقے، ساتھی فنکار اوران کے پرستاراس لمحے کو ایک عظیم باب کے اختتام کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جیسا کہ انہوں نے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصے میں قریباً 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کی اور اپنی انفرادی شخصیت سے ناظرین کے دلوں پر نقش چھوڑا۔
انہیں نہ صرف ان کی ایکشن اداکاری، بلکہ حسنِ ظہور کے اعتبار سے بھی انجانے وقت میں “بالی وُڈ کے سب سے حسین مرد” کا لقب ملا۔ عدائق کے لحاظ سے ان کی فلمیں جیسے ‘شلے’، ‘سیتا اور گیتا’، ‘میرا گاؤں میرا دیس’ اور ‘یادوں کی بارات’ آج بھی کلاسکس شمار کی جاتی ہیں۔
ان کی آخری رسم پون ہنس شمشان گھاٹ پر ہوگی، جہاں لاکھوں لوگوں نے آخر کار “ہی-مین” کو آخری خراج عقیدت پیش کرنا ہے۔ اس موقع پر ان کی فیملی، دوست اوران کے چاہنے والوں کی بڑی تعداد ان کے آخر ی دیدار کے بے تاب ہے۔دھرمیندر کی زندگی کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ فلم صرف تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسی زبان ہے جو نسلوں کو جوڑتی اور دلوں میں امنگوں کو جگاتی ہے۔ ان کی غیر متزلزل محنت، بے وقت مسکراہٹ اور بے مثال جرات ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شہرت عارضی ہے، مگر عزت اور محبت کا سفر ہمیشہ جاری رہتا ہے۔بالی وُڈ کی تاریخ نے ایک عظیم ستارے کو کھو دیا ہے، مگر ان کی یاد، ان کی فلموں اور ان کے کردار ہمیشہ زندہ رہیں گے۔







