تعلیم کے لیے ہندوستانیوں کی پہلی پسند والے ممالک میں سے ایک کینیڈا اب تارکین وطن کے لیے سخت ہوتا جا رہا ہے۔ ایک وقت تھا جب کینیڈا تمام ممالک کے لوگوں کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتا تھا، خواہ وہ تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہوں، نوکری تلاش کرنا چاہتے ہوں یا زندگی بسر کرنا چاہتے ہوں۔ اس کی وجہ سے ملک میں تارکین وطن کی آمد اتنی بڑھ گئی کہ اس کا نظام درہم برہم ہونے لگا۔ مزید برآں، نرم پالیسیوں کے غلط استعمال نے بھی کینیڈا حکومت کوسخت ہونے مجبور کر دیا ۔ وجہ خواہ کچھ بھی ہولیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ غیر ملکی طلباء اب کینیڈا کو مسترد کرنے لگے ہیں۔
خبررساں ایجنسی’رائٹر‘نے بتایا کے امیگریشن، ریفیوجیز اینڈ سٹیزن شپ کینیڈا (آئی آر سی سی) کی رپورٹ کے مطابق اگست 2023 میں مسترد کرنے کی شرح 32 فیصد تھی، جب کہ اسی عرصے کے دوران عالمی سطح پر اوسط ویزا مسترد ہونے کی شرح 40 فیصد سے زیادہ رہی اور چین سے آنے والی صرف 24 فیصد درخواستو ں کو مسترد کیا گیا۔ وہیں اعداد و شمارسے پتہ چلتا ہے کہ ہندوستانی طلباء کی درخواستوں میں بھی تیزی سے کمی آئی ہے۔ اگست 2023 میں 20,900 درخواستیں تھیں وہیں اگست 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 4,515 رہ گئی۔
آئی آر سی سی کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2024 میں نئے طلباء کی تعداد 79,795 تھی جبکہ اگست 2025 میں یہ کم ہو کر 45,380 ہو گئی۔ دریں اثنا جنوری اور اگست 2025 کے درمیان 2024 کے مقابلے تقریباً 132,505 نئے طلبہ کم آئے۔ آئی آرسی سی نے 2025 کے لیے 305,900 نئے طلبہ کا ہدف مقرر کیا تھا لیکن جنوری اور اگست کے درمیان آنے والے طلبہ کی تعداد صرف 29.24 فیصد (تقریباً) تھی۔
گزشتہ سال کے دوران کینیڈا حکومت نے عارضی ہجرت کم کرنے اور بین الاقوامی تعلیمی شعبے میں فراڈ پر شکنجہ کسنے کے لئے کئی سخت قدم اٹھائے ہیں۔ 2023 میں افسران نے 1,550 فراڈ اسٹڈی پرمٹ درخواستیں پکڑی تھیں جن میں سے زیادہ تر ہندوستان سے تھیں۔ اس کے بعد 2024 میں نافذ ایک نئے ویریفکیشن سسٹم نے دنیا بھر کی درخواستوں میں سے 14,000 سے زیادہ مشکوک ایڈمیشن لیٹر پکڑے۔ پرانی درخواستیں جن پر پرانے قوانین کے تحت کارروائی کی جانی تھی وہ ابھی تک زیر التوا ہیں۔ اس لئے بھی تعداد میں کمی آئی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ طلباء اب تیزی سے دوسرے ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جوکنیڈا کی آسان پالیسی کی وجہ سے کم ہوگیا تھا۔







