نئی دہلی : دہلی کے آیا نگر علاقے میں پیر کی صبح جم ٹرینر وجے کمار کو گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔ 2 موٹر سائیکلوں پر سوار 4 بدمعاش آئے اور فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہو گئے۔ وجے کو 4 گولیاں لگیں، جن میں سے 2 سر میں لگی تھیں۔ گولیاں لگنے کے بعد وجے کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔
آیا نگر میں جم ٹرینر کا قتل
واردات کے بعد سوشل میڈیا پر ’ہمانشو بھاؤ‘ کے نام سے ایک پوسٹ سامنے آئی۔ اس میں قتل کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ کیا گیا اور دھمکی دی گئی کہ بھاگنے سے کام نہیں چلے گا، میدان میں آؤ۔ پوسٹ میں ’بھاؤ گینگ‘ اور ’Since-2020‘ بھی لکھا گیا تھا۔پولیس اب اس پوسٹ کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس کا جم ٹرینر کے قتل سے کوئی تعلق ہے یا نہیں۔
بچے کے ذریعے جم سے باہر بلایا گیا
وجے کے چچا دیویندر نے بتایا کہ حملہ آوروں نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے ایک بچے کو بھیج کر وجے کو جم سے باہر بلایا تھا۔ اس کے بعد 2 بدمعاش موٹر سائیکل پر بیٹھے رہے، جب کہ باقی 2 نے وجے پر فائرنگ کر دی۔
2 سال پہلے ارون کا ہوا تھا قتل
دیویندر نے بتایا کہ 2 سال پہلے آیا نگر میں ارون نامی ایک نوجوان کا قتل ہوا تھا۔ اس معاملے میں وجے کے چھوٹے بھائی اجے اور اس کے دوست دیپک اور یوگیش کو قصوروار پایا گیا تھا اور وہ تہاڑ جیل میں بند ہیں۔ارون کے اہل خانہ کو شبہ تھا کہ وجے بھی اس قتل میں شامل تھا۔ اسی وجہ سے اسے کئی بار دھمکیاں بھی دی گئی تھیں۔ پولیس اب پرانے قتل کے معاملے اور تازہ واردات کے درمیان ممکنہ تعلق کی کڑی تلاش کر رہی ہے۔
کیا ہے بھاؤ گینگ کا پیٹرن؟
ایک ماہ کے اندر یہ دوسری بار ہے جب ہمانشو بھاؤ گینگ کی جانب سے کسی قتل کی ذمہ داری لینے کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔ اس سے پہلے 3 ستمبر کو نریلا کے بانک نیر گاؤں میں ڈیری کاروباری رتن لوہیا کا قتل کیا گیا تھا۔ اس وقت حملہ آوروں نے 60 سے زیادہ گولیاں چلائی تھیں۔اس معاملے میں گینگ کے 2 شارپ شوٹر گرفتار کیے گئے تھے۔ اب تفتیشی ٹیم آیا نگر اور نریلا میں ہونے والی دونوں وارداتوں کے طریقۂ واردات اور دیگر شواہد کو جوڑ کر نئے سراغ تلاش کر رہی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







