راشٹریہ جنتا دل کے قومی کارگزار صدر اور بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے بہار میں سیلاب کی صورتحال کو لے کر مرکزی حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے گجرات اور بہار کے تئیں مرکز کے رویے میں امتیاز برتنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں بارش سے صورتحال خراب ہونے پر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ فوری طور پر سرگرم ہوجاتے ہیں، لیکن بہار میں سیلاب سے لاکھوں لوگ متاثر ہیں اور بڑی تعداد میں لوگوں کی موت ہوچکی ہے، اس کے باوجود مرکز کی جانب سے کوئی ٹھوس مدد نہیں ملی۔
تیجسوی یادو نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ گجرات کی کسی نالی میں بھی بارش کا پانی بڑھ جاتا ہے تو وزیر اعظم وہاں پہنچ جاتے ہیں، اسے آفت قرار دے کر ہزاروں کروڑ روپے کا پیکیج دے دیا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اسی سال 23 جولائی کو گجرات میں بارش کے سبب ایک شخص کی موت ہوئی تھی، جس کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے گجرات کے وزیر اعلیٰ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے بات کی اور فضائیہ و قومی آفات سے نمٹنے والی فورس کو ہنگامی حالت میں تیار رہنے کی ہدایت دی گئی۔
گجرات کی مثال دے کر مرکز پر نشانہ
راشٹریہ جنتا دل کے رہنما نے کہا کہ کچھ برس قبل گجرات میں سیلاب آنے پر وزیر اعظم نے فضائی جائزہ لیا تھا اور فوری طور پر 500 کروڑ روپے کا پیکیج دیا گیا تھا۔ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں فوج، فضائیہ اور قومی آفات سے نمٹنے والی فورس کی ٹیمیں تعینات کی گئی تھیں اور متاثرہ افراد کو 2-2 لاکھ روپے کی امداد دی گئی تھی۔ اس کے برعکس بہار کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے تیجسوی نے کہا کہ ریاست میں سیلاب کے سبب 50 سے زیادہ افراد کی موت ہوچکی ہے، ہزاروں مویشی لاپتہ ہیں اور ہزاروں کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔
45 لاکھ افراد متاثر، پھر بھی مرکز کی خاموشی
ان کے مطابق تقریباً 45 لاکھ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں، لیکن امداد تو دور کی بات، وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کی جانب سے بہار کے لیے ایک لفظ تک نہیں کہا گیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا مرکزی حکومت بہار کے وزیر اعلیٰ کو معمولی سمجھتی ہے؟ تیجسوی نے الزام عائد کیا کہ بہار کے ساتھ مسلسل امتیاز برتا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گجرات میں بارش ہوتے ہی مرکزی حکومت سرگرم ہوجاتی ہے، جبکہ بہار میں سیکڑوں افراد کی موت اور لاکھوں لوگوں کے متاثر ہونے کے باوجود مرکز کی جانب سے مطلوبہ سرگرمی نظر نہیں آرہی ہے۔
آسمانی بجلی گرنے سے بہار میں بڑی تعداد میں اموات
تیجسوی یادو نے آسمانی بجلی گرنے سے ہونے والی اموات کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ بہار میں ہر سال آسمانی بجلی گرنے سے بڑی تعداد میں لوگوں کی موت ہوتی ہے، لیکن اسے قومی آفت کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا اور مرکز کی جانب سے اس کے لیے معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گجرات میں بارش کے سبب ہونے والی موت پر مرکز کی جانب سے 2 لاکھ روپے کی امداد دی جاتی ہے۔ راشٹریہ جنتا دل کے رہنما نے کہا کہ پہلے بہار میں آفت آنے پر سیاسی اختلافات کے باوجود لالو پرساد یادو اور نتیش کمار بہار کے حق کے لیے متحد ہوکر مرکز کے سامنے آواز اٹھاتے تھے۔
وزیر اعظم کو خط بھی لکھ چکے ہیں
انہوں نے الزام لگایا کہ آج بہار کے 30 ارکان پارلیمنٹ اور 8 مرکزی وزرا ہونے کے باوجود کوئی بہار کے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھا رہا ہے۔ تیجسوی نے کہا کہ حزب اختلاف میں ہونے کے باوجود وہ پہلے دن سے ہی سیلاب راحت کے لیے مرکزی حکومت پر دباؤ بنا رہے ہیں اور وزیر اعظم کو خط بھی لکھ چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر مرکز سے کوئی پیکیج ملتا ہے تو وہ بہار حکومت کو ہی ملے گا، اس میں ان کا کوئی ذاتی فائدہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کا نقطۂ نظر منفی ہوتا تو وہ مرکز سے امداد کے لیے دباؤ کیوں بناتے؟
’45 لاکھ لوگ متاثر، پھر بھی مرکز سے مدد کی امید نہیں‘
تیجسوی نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بھی نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بہاریوں کے لیے یہ شرم کی بات ہے کہ 45 لاکھ لوگ متاثر ہونے کے باوجود مرکز سے مدد، تعاون اور امید نظر نہیں آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بہار نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے مرکزی حکومت کو جھکنے پر مجبور کیا ہے، لیکن اب بھارتیہ جنتا پارٹی کے چکر میں بہار خود جھک رہا ہے۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سیاست سے الگ ہوکر یہ سوال پوچھیں کہ آخر بہار کے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







