نئی دہلی : چین کے صدر شی جن پنگ جلد بھارت کا دورہ کر سکتے ہیں۔ وہ نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس 2026 میں شرکت کے لیے بھارت آ سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، چین کی وزارت خارجہ کی جانب سے شی جن پنگ کے دورۂ بھارت کا باضابطہ اعلان کیے جانے کی توقع ہے۔ اگر یہ دورہ ہوتا ہے تو تقریباً 7 سال بعد چین کے صدر بھارتی سرزمین پر قدم رکھیں گے۔بتایا جا رہا ہے کہ شی جن پنگ ہفتہ کی دوپہر دہلی پہنچ سکتے ہیں۔ اس کے بعد شام تقریباً 6 بجے بھارت منڈپم میں ان کی وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات ہو سکتی ہے۔ برکس سربراہی اجلاس کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان دو طرفہ ملاقات کا بھی امکان ہے۔ ایسے میں پوری دنیا کی نظریں اس ملاقات پر رہیں گی۔
مودی-شی کی ملاقات کیوں اہم؟
بھارت اور چین کے تعلقات میں گزشتہ چند برسوں کے دوران کافی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ سرحدی تنازع اور گلوان وادی میں ہوئی جھڑپ کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ ایسے وقت میں اگر وزیر اعظم نریندر مودی اور شی جن پنگ کے درمیان بھارت میں بالمشافہ بات چیت ہوتی ہے تو اسے دونوں ممالک کے تعلقات کے لحاظ سے انتہائی اہم سمجھا جائے گا۔خاص بات یہ بھی ہے کہ گلوان جھڑپ کے بعد یہ دونوں رہنماؤں کی بھارتی سرزمین پر پہلی دو طرفہ ملاقات ہو سکتی ہے۔ اسی لیے برکس اجلاس کے علاوہ مودی اور شی جن پنگ کے درمیان ہونے والی بات چیت پر بھی خصوصی نظر رہے گی۔
12 اور 13 ستمبر کو دہلی میں برکس سربراہی اجلاس
بھارت اس سال برکس کی صدارت کر رہا ہے اور 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں 18ویں برکس سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ اس بار اجلاس کا موضوع ’’Building for Resilience, Innovation, Cooperation and Sustainability‘‘ رکھا گیا ہے۔
اجلاس میں رکن اور شراکت دار ممالک کے لیڈر عالمی اور علاقائی مسائل پر تبادلہ خیال کریں گے۔ اس کے علاوہ سیاسی و سلامتی، اقتصادی و مالی تعاون اور عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دینے کے معاملات پر بھی بات چیت ہوگی۔ سال 2026 برکس کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس تنظیم کے قیام کے 20 سال مکمل ہو رہے ہیں۔
2019 میں آخری بار بھارت آئے تھے شی جن پنگ
شی جن پنگ آخری بار اکتوبر 2019 میں بھارت آئے تھے۔ 11 اور 12 اکتوبر کو انہوں نے تمل ناڈو کے ماملاپورم میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ بھارت-چین کی دوسری غیر رسمی سربراہی ملاقات میں شرکت کی تھی۔ اس سے قبل 2018 میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات چین کے ووہان میں ہوئی تھی۔اب تقریباً 7 سال بعد شی جن پنگ کے ممکنہ دورۂ بھارت سے دونوں ممالک کے تعلقات اور مستقبل کی سفارتی سمت کو لے کر نئی بحث تیز ہو گئی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







