
نئی دہلی: کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکارجن کھڑگے نے ہلدوانی میں ان کی ریلی کے بعد مبینہ ’شدھی کرن‘ کے معاملے پر گہری ناراضی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے راجیہ سبھا کے قائدِ ایوان جے پی نڈا کو خط لکھ کر کہا کہ حیرت کی بات ہے کہ واقعے کے 24 دن گزرنے کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔ کھڑگے نے اپنے خط میں کہا کہ ’شدھی کرن‘ کا معاملہ صرف ان کی ذات یا کانگریس صدر کے عہدے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کروڑوں لوگوں کے جذبات سے گہرائی سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ کانگریس صدر نے جے پی نڈا سے مطالبہ کیا کہ وہ اتراکھنڈ کے وزیراعلیٰ کو ہدایت دیں کہ ہلدوانی میں مبینہ ’شدھی کرن‘ کے واقعے میں ملوث تنظیم اور افراد کے خلاف فوری طور پر ایف آئی آر درج کی جائے۔ کھڑگے نے خط میں یاد دلایا کہ انہوں نے 13 اگست 2026 کو راجیہ سبھا میں انتہائی دکھ اور تکلیف کے ساتھ 8 اگست کو ہلدوانی میں منعقدہ اپنی عوامی ریلی کے بعد پیش آنے والے اس معاملے کو اٹھایا تھا۔
جے پی نڈا نے کارروائی کا دیا تھا یقین
کھڑگے کے مطابق جب انہوں نے یہ معاملہ ایوان میں اٹھایا تھا تو راجیہ سبھا کے قائدِ ایوان جے پی نڈا نے اسے انتہائی افسوسناک قرار دیا تھا۔ نڈا نے مبینہ طور پر کہا تھا کہ بی جے پی اس طرح کی سرگرمیوں کی حمایت نہیں کرتی اور معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔ کھڑگے نے کہا کہ اس وقت انہیں یقین دلایا گیا تھا کہ تحقیقات کے بعد جو بھی شخص قصوروار پایا جائے گا، اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ راجیہ سبھا کے چیئرمین نے بھی اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا تھا۔ تاہم کھڑگے نے کہا کہ اس یقین دہانی کے باوجود اب تک ایف آئی آر درج نہ ہونا تشویش کا باعث ہے۔ 8 اگست 2026 کو اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں کانگریس صدر ملیکارجن کھڑگے کی ایک ریلی منعقد ہوئی تھی۔ کانگریس کا دعویٰ ہے کہ ریلی کے دو دن بعد، 10 اگست کو اسٹیج کا مبینہ ’شدھی کرن‘ کیا گیا۔ کانگریس رہنما راہل گاندھی نے ایک پریس کانفرنس میں الزام لگایا تھا کہ کھڑگے کی ریلی کے بعد بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ افراد نے اسٹیج کا ’شدھی کرن‘ کیا۔
کانگریس نے اسے دلتوں کی توہین قرار دیا
کانگریس رہنماؤں نے اس واقعے کو دلت برادری کی توہین اور مبینہ طور پر چھوت چھات سے جڑا عمل قرار دیتے ہوئے سخت کارروائی اور ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ دوسری جانب، مبینہ ’شدھی کرن‘ میں شامل تنظیم اور مقامی افراد نے اس معاملے میں عائد ذات پات سے متعلق الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کو ذات پات یا چھوت چھات کے تناظر میں پیش کرنا درست نہیں ہے۔ اب ملیکارجن کھڑگے کی جانب سے جے پی نڈا کو خط لکھے جانے کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






