
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ایس۔ امین الحسن نے نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا ہے۔ جماعت کے نائب امیر نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا کہ اس ہولناک سانحے کے وقت ہماری ہمدردیاں نیپال کے عوام کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے گہری تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ لوگوں کی سلامتی اور جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔
زندگی بچانا اور متاثرین تک فوری امداد پہنچانا ترجیح ہو
ایس۔ امین الحسن نے کہا کہ اس وقت سب سے اہم ترجیح لوگوں کی جان بچانا، لاپتہ افراد کو تلاش کرنا اور متاثرہ خاندانوں کو خوراک، پانی، پناہ گاہ، طبی سہولیات اور ہر ممکن انسانی امداد فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قریبی پڑوسی ہونے کے ناطے بھارت کو نیپالی حکام کے ساتھ مل کر امدادی کارروائیوں میں بھرپور تعاون کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق اس تعاون میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں، طبی امداد، ہنگامی سامان، لاجسٹک سپورٹ اور ضرورت پڑنے پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے شعبے میں تکنیکی مہارت فراہم کرنا شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سیٹلائٹ نگرانی، موسم اور اس کے اثرات کی پیش گوئی اور آفات سے نمٹنے کے سلسلے میں بھارت کی صلاحیتیں نیپال کو مزید سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرات کا اندازہ لگانے اور فوری کارروائی کو مضبوط بنانے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ہمالیائی خطے میں طویل مدتی تیاری ضروری
جماعت کے نائب امیر نے کہا کہ اس سانحے نے ایک بار پھر ہمالیائی خطے، جس میں بھارت کے کئی علاقے بھی شامل ہیں، کو شدید موسمی واقعات، گلیشیئرز کے غیر مستحکم ہونے، سیلاب اور دیگر سلسلہ وار آفات کے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب متوجہ کیا ہے۔ بڑھتا ہوا درجہ حرارت، گلیشیئرز کا کھسکنا اور موسم کے بدلتے اور غیر یقینی رجحانات نئے اور غیر متوقع خطرات پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں صرف آفت آنے کے بعد ردعمل دینے کی روش سے نکل کر روک تھام اور طویل مدتی تیاری کی جانب بڑھنا ہوگا۔ گلیشیئرز، گلیشیائی جھیلوں، غیر مستحکم پہاڑی ڈھلوانوں اور زیادہ بلندی پر موجود آبی ذرائع کی جامع اور سائنسی نگرانی فوری طور پر ضروری ہے۔ انہوں نے سیٹلائٹ تصاویر، ریموٹ سینسنگ، زمینی نگرانی اور قابل اعتماد ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا، تاکہ دریاؤں کے نشیبی علاقوں میں رہنے والی اور خطرات سے دوچار آبادیوں کو بروقت خبردار کیا جا سکے۔
حساس علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں کا سخت جائزہ لیا جائے
ایس۔ امین الحسن نے کہا کہ حکومتوں کو ہمالیہ کے ماحولیاتی اعتبار سے حساس علاقوں میں سڑکوں، پن بجلی منصوبوں، سیاحت سے متعلق بنیادی ڈھانچے اور دیگر ترقیاتی سرگرمیوں کے لیے ماحولیاتی اور آفات کے خطرات کا سختی سے جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے حکومتوں، انسانی امدادی تنظیموں اور علاقائی عوام سے اپیل کی کہ وہ نیپال کے متاثرین کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس سانحے میں ہونے والی اموات حکومتوں اور پالیسی سازوں کو آفات کے خطرات کم کرنے اور ہمالیائی علاقوں میں رہنے والی کمزور آبادیوں کے تحفظ کے لیے فوری اور مسلسل اقدامات پر آمادہ کریں گی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






