
مغربی بنگال کی سیاست میں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) سے الگ ہونے والے لیڈروں کی دوبارہ پارٹی میں واپسی کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ شمالی 24 پرگنہ کے امدنگا سے رکن اسمبلی قاسم صدیقی نے اپوزیشن خیمے سے علیحدگی اختیار کرکے ایک بار پھر سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے خیمے میں واپس آنے کا اعلان کیا ہے۔ کچھ ماہ قبل انہوں نے اپوزیشن لیڈر رتبرتا بنرجی کے گروپ کا ساتھ دیا تھا۔ قاسم صدیقی نے کہا کہ انہیں گمراہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہمیشہ دیدی کے ساتھ تھے اور آئندہ بھی ان کے ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ جب انہیں اپوزیشن گروپ میں شامل کیا گیا تو کہا گیا تھا کہ یہ گروپ ممتا بنرجی کی قیادت میں کام کرے گا، لیکن بعد میں انہیں احساس ہوا کہ وہاں دیدی کا کوئی ذکر ہی نہیں تھا۔
دستاویز پر دستخط کرانے کا دعویٰ
قاسم نے بتایا کہ ان سے ایک دستاویز پر دستخط کرائے گئے اور کہا گیا کہ یہ دستخط دیدی تک پہنچائے جائیں گے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اس دستاویز میں دیدی کا نام ہی موجود نہیں ہے تو انہوں نے اس گروپ کا حصہ نہ رہنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ممتا بنرجی ہی ان کی لیڈر ہیں اور انہی نے انہیں ٹکٹ دے کر اسمبلی تک پہنچایا ہے۔ قاسم صدیقی نے جذباتی انداز میں کہا کہ انہوں نے دیدی کی تصویر کے ساتھ ووٹ مانگے تھے اور عوام نے بھی دیدی کو دیکھ کر ہی انہیں ووٹ دیا۔ ان کے مطابق ان کے لیے دیدی ہی سب کچھ ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ رتبرتا بنرجی کون ہیں؟ جب دیدی نہیں ہوں گی تو وہ بھی وہاں نہیں رہیں گے۔
مسلم برادری کے کچھ طبقات میں اثر و رسوخ
قاسم صدیقی کو ’پیرزادہ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ ان کا تعلق ہوگلی کے فرفورا شریف درگاہ سے ہے اور مسلم برادری کے بعض طبقات میں ان کا خاصا اثر و رسوخ سمجھا جاتا ہے۔ گزشتہ سال ہی وہ ٹی ایم سی میں شامل ہوئے تھے، جس کے بعد پارٹی نے انہیں جنرل سکریٹری بنایا تھا۔ بعد میں انہیں امدنگا سے امیدوار بنایا گیا اور انہوں نے انتخاب جیت لیا۔ قاسم صدیقی کی واپسی ایسے وقت ہوئی ہے جب مغربی بنگال اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت اور ٹی ایم سی کے اندر سیاسی رسہ کشی جاری ہے۔ باغی گروپ مسلسل فلور ٹیسٹ کا مطالبہ کر رہا ہے اور اسپیکر کے فیصلے کو بھی چیلنج کر رہا ہے۔
فلور ٹیسٹ پر تنازع
ٹی ایم سی لیڈر کنال گھوش نے کہا کہ اسپیکر کا فیصلہ عارضی تھا اور عارضی چیز مستقل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ٹی ایم سی فلور ٹیسٹ کے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن یہ خفیہ ووٹنگ کے ذریعے ہونا چاہیے۔ ان کا الزام ہے کہ باغی گروپ ریاستی حکومت کی مبینہ حمایت سے پارٹی کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔ قاسم صدیقی کی گھر واپسی نے مغربی بنگال کی سیاست میں جاری سیاسی کشمکش کے درمیان ٹی ایم سی کے لیے ایک اہم پیش رفت کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ان کی واپسی سے پارٹی کو تقویت ملنے اور باغی گروپ کے دباؤ میں کمی آنے کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82





