
عدالت نے کہا کہ آج کے دور میں بچے اپنا کافی وقت موبائل فون، انٹرنیٹ اور دیگر ڈیجیٹل سرگرمیوں میں گزار رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسکولوں میں کھیل اور جسمانی سرگرمیوں کو مناسب اہمیت دینا ضروری ہے۔ عدالت نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ کھیلوں کو لازمی نصاب کا حصہ بنانا بچوں کی مجموعی نشوونما کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا کی بنچ اس معاملے کی سماعت کر رہی ہے۔ سینئر وکیل گوپال شنکرنارائنن عدالت کے معاون یعنی ’ایمی کس کیوری‘ کے طور پر عدالت کی مدد کر رہے ہیں۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بچوں کے لیے کھیل اور جسمانی سرگرمیوں سے متعلق تعلیم کو بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں میں کھیلوں کی تعلیم کو لازمی نصاب کا حصہ بنانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ڈیجیٹل دور میں بچوں کے کھیل کے میدانوں اور جسمانی سرگرمیوں سے دور ہونے پر تشویش کا اظہار کیا۔
ریاستوں سے رپورٹ اور مرکز سے جواب طلب
سپریم کورٹ نے اس معاملے میں پہلے پیش کی گئی رپورٹ کا بھی حوالہ دیا۔ عدالت کے معاون نے بتایا کہ 17 مارچ 2022 کو اس مسئلے پر ایک رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی تھی۔ عدالت نے ہدایت دی کہ رپورٹ کی سافٹ کاپی تمام ریاستوں اور متعلقہ فریقوں کے وکلا کو فراہم کی جائے۔ ریاستوں کو اپنی رائے اور جواب داخل کرنے کے لیے دو ہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔مرکزی حکومت سے بھی عدالت نے اپنا موقف واضح کرنے کو کہا ہے۔ مرکز کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے ایم نٹراج پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ مرکز کی جانب سے اس معاملے میں جواب ابھی داخل کیا جانا باقی ہے۔
کھیل بچوں کی مجموعی نشوونما کے لیے ضروری
درخواست میں دلیل دی گئی ہے کہ بچوں کی ترقی صرف کتابی تعلیم اور کلاس روم تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ جسمانی سرگرمیاں بچوں کی صحت اور فٹنس کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط، ٹیم اسپرٹ، قیادت کی صلاحیت اور ذہنی نشوونما میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں۔2022 میں عدالت کے سامنے پیش کی گئی رپورٹ میں اسکولوں میں بچوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کے لیے روزانہ کم از کم 90 منٹ کا وقت مقرر کرنے کی سفارش بھی کی گئی تھی۔فی الحال آئین کے آرٹیکل 21 اے کے تحت 6 سے 14 سال کی عمر کے بچوں کو مفت اور لازمی ابتدائی تعلیم کا بنیادی حق حاصل ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ کیا کھیل اور جسمانی تعلیم کو بھی بچوں کے بنیادی حقوق کے دائرے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔22 ستمبر کو ہونے والی اگلی سماعت میں مرکز اور ریاستوں کے جوابات کے بعد اس اہم معاملے میں مزید پیش رفت متوقع ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے ملک کے اسکولوں میں کھیل اور جسمانی تعلیم کی اہمیت کو ایک نئی سمت مل سکتی ہے۔





