
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے کانفرنس ہال میں’’اورا ای میگزن‘‘ کے زیراہتمام ’’اسکول آف لائف: تعلیم پرغوروفکر‘‘ کے موضوع پرایک تعلیمی سیمینارمنعقد ہوا، جس میں مختلف اسکولوں اوریونیورسٹیوں سے وابستہ اساتذہ، طلبہ اورتعلیم سے دلچسپی رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ سیمینارمیں تعلیم کے مختلف پہلوؤں پرتفصیلی روشنی ڈالی گئی اوراس امرکا جائزہ لیا گیا کہ تعلیم کس طرح فرد کے کردار، ثقافت اورروحانی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے اوراس بات پربھی غوروفکرکیا گیا کہ تعلیم کا عمل محض کلاس روم یا پیشہ ورانہ زندگی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ انسان کی پوری زندگی میں جاری رہنے والا ایک مسلسل عمل ہے۔ سمینارمیں اس پربھی غورکیا گیا کہ حقیقی معنوں میں ایک تعلیم یافتہ انسان ہونے کا مفہوم کیا ہے اورتعلیم فرد کی فکری نشوونما کے ساتھ اس کے اخلاق، رویے اورمعاشرتی ذمہ داریوں کو کس طرح متاثرکرتی ہے۔ واضح رہے کہ یہ سیمینار’اورا ای میگزین‘ کے تیسرے مطبوعہ شمارے کی رونمائی کے سلسلے میں منعقد کیا گیا تھا، جس میں تعلیم اورانسانی شخصیت کی تشکیل سے متعلق مختلف موضوعات کو اجاگر کیا گیا۔ سمینارکے افتتاحی خطاب میں مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرپرسن اورنائب امیرجماعتِ اسلامی ہند، پروفیسرسلیم انجینئرنے تعلیم سے متعلق اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ معاشرے کی ترقی اورنئی نسل کے روشن مستقبل کے لیے معیاری تعلیم کے بہترین اورآسانی سے قابلِ رسائی مواقع فراہم کرنا اورہرفرد کوبلاامتیازمعیاری تعلیم تک رسائی ضروری ہے۔
دہلی یونیورسٹی کی ریٹائرڈ پروفیسراورطویل عرصے سے تعلیمی میدان میں سرگرم کارکن پروفیسرنندیتا نارائن نے کہا کہ تعلیم زندگی کے ہرشعبے پرگہرے اثرات مرتب کرتی ہے اورافراد کو بااختیاربنانے میں بنیادی کردارادا کرتی ہے۔ تعلیم افراد کوجمہوری اقدارکوسمجھنے، جمہوریت سے مؤثرطورپراستفادہ کرنے اوراپنی زندگی کودرست سمت میں آگے بڑھانے کا شعورفراہم کرتی ہے۔ الٹرنیٹیوایجوکیشن کے شعبے میں مہارت رکھنے والی ماریا محمود نے کہا ہے کہ تعلیم کا بنیادی مقصد بچوں میں شعور، آگہی اورسیکھنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کومختلف مہارتیں حاصل کرنے کے طریقوں سے روشناس کرانا تعلیم کا ایک اہم حصہ ہے۔ تعلیم صرف کتابوں اورروایتی تدریسی طریقوں تک محدود نہیں، بلکہ کھیلوں اورعملی سرگرمیوں کے ذریعے بھی بچوں کی صلاحیتوں کواجاگرکیا جا سکتا ہے۔ بچوں کے لیے دوستانہ، محفوظ اورسازگارماحول فراہم کرکے معیاری تعلیم کے مؤثرمواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ڈاکٹر شرناس متھو، ڈائریکٹر دی ویمن ایجوکیشن اینڈ ایمپاورمنٹ ٹرسٹ، نے کہا کہ مالی مشکلات کو بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہئے۔ انہوں نے ایک ایسے خاندان کی مثال دی جہاں شوہر کی وفات کے بعد ایک خاتون نے اپنے بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کیا اوران کے تعلیمی اخراجات پورے کیے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ بچوں کی تعلیم وتربیت میں خواتین کا کرداربہت اہم ہے۔ اس لیے خواتین کوبااختیار بنانا ضروری ہے تاکہ وہ اپنے بچوں کے بہترمستقبل کے لیے مؤثرکردارادا کرسکیں۔ تعلیمی اقدارکے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پبلک ہیلتھ ریسرچرشانتی این ایس نے کہا کہ جس طرح بچوں کی مناسب جسمانی اورذہنی نشوونما کے لیے غذائیت سے بھرپورخوراک ضروری ہے، اسی طرح ان کی بہتر تربیت، شخصیت سازی اورہمہ جہت نشوونما کے لیے صحت مند اورسازگارتعلیمی ماحول بھی ناگزیرہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کومعیاری تعلیم کے ساتھ ایسا ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے جوان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اورمثبت اقدارکوفروغ دینے میں معاون ہو۔
ڈاکٹررابعہ بصری، پرنسپل ہادیہ کالج، چنئی، نے کہا کہ بچوں کوتعلیم دینا ایک اہم اورذمہ داری کا کام ہے۔ ایک استاد کی ذمہ داری صرف کتابی علم فراہم کرنا نہیں، بلکہ انہیں ایسی ہمہ جہت نشوونما میں مدد کرنا بھی شامل ہے جومستقبل میں ایک کامیاب اورذمہ دارانسان بنا سکے۔ استاد کا اپنے طلبہ کے ساتھ جذباتی اورشفقت بھرا تعلق ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ ایک مثالی استاد تھے ۔ آپ ﷺ کی تعلیمات اساتذہ کے لیے بہترین نمونہ ہیں کہ طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ان کی اخلاقی اورانسانی تربیت پربھی توجہ دی جائے۔ ’اورا ای میگزین‘ کی چیف ایڈیٹر رحمت النساء نے ’اورا‘ کی جانب سے اختیارکئے گئے مشن پرگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم انسانی زندگی کا ایک اہم اوربنیادی پہلوہے۔ انہوں نے اس بات پرزوردیا کہ سیاست میں تعلیم کا عنصرزیادہ ہونا چاہیے، جبکہ تعلیم کے میدان میں سیاسی مداخلت کم سے کم ہو۔ اس سے قبل ’اورا‘ کی ایڈیٹرثمینہ افشاں نے شرکاء کا خیرمقدم کیا۔ تقریب کے دوران صائمہ ایس اورمریم فردوس نے نظامت کے فرائض انجام دیئے، جبکہ عظمٰی اوصاف نے کلماتِ تشکر پیش کیے۔





