
نئی دہلی : تمل ناڈو کے وزیراعلیٰ اور اداکار سے سیاست دان بننے والے وجے کے لیے اس سال یوم آزادی کی تقریب ایک نئے سیاسی تنازع کا سبب بن گئی ہے۔ چنئی کے فورٹ سینٹ جارج میں 15 اگست کو منعقدہ سرکاری تقریب کے دوران اداکارہ ترشا کرشنن پہلی قطار میں بیٹھی نظر آئیں۔ اسی دوران ترشاا اور وزیراعلیٰ وجے کے ایک دوسرے کو سلیوٹ کرنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی، جس کے بعد حکمراں ڈی ایم کے نے وجے کو نشانہ بناتے ہوئے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔ڈی ایم کے کے سرکاری ترجمان ’مرسولی‘ نے اپنے اداریے میں ترشا کی تقریب میں موجودگی، پہلی قطار میں ان کے بیٹھنے اور وزیراعلیٰ کے ساتھ سلیوٹ کے تبادلے پر سوال اٹھایا۔ پارٹی نے براہ راست ترشا کا نام نہیں لیا، تاہم اداکار سے وزیراعلیٰ بننے والے وجے کی موجودگی میں پیش آنے والے واقعے پر تنقید کی۔
ترشا پہلی قطار میں بیٹھیں، وجے کو کیا سلیوٹ
15 اگست کو فورٹ سینٹ جارج میں وزیراعلیٰ وجے نے یوم آزادی کے موقع پر قومی پرچم لہرایا۔ اس موقع پر اداکارہ ت ترشا کرشنن وزیراعلیٰ کے والدین ایس اے چندر شیکھر اور شوبھا چندر شیکھر کے ساتھ پہلی قطار میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ ترشا نے پیلی ساڑی اور سبز بلاؤز پہن رکھا تھا۔تقریب کے دوران جب وجے وہاں سے گزر رہے تھے تو ترشا نے انہیں سلیوٹ کیا۔ اس کے جواب میں وجے نے بھی ت ترشا کی جانب سلیوٹ کیا۔ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد تمل ناڈو کی سیاست اور فلمی حلقوں میں بحث شروع ہوگئی۔
ڈی ایم کے نے پہلی قطار پر اٹھایا سوال
ڈی ایم کے کے ترجمان ’مرسولی‘ نے اداریے میں سوال اٹھایا کہ ایک اداکارہ کو وزیراعلیٰ کی سرکاری تقریب میں پہلی قطار میں کیوں بٹھایا گیا۔ اگرچہ اداریے میں ترشا کا نام واضح طور پر نہیں لیا گیا، لیکن واقعے اور وجے کی موجودگی پر تنقید کی گئی۔پارٹی کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر سے وزیراعلیٰ کے عہدے کے وقار پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔ ڈی ایم کے نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وجے کے بعض حامی اور ٹی وی کے کے ووٹر بھی اس منظر سے خوش نہیں ہیں۔ تاہم ترشا کے آس پاس بیٹھے وجے کے خاندان کے افراد اور دیگر حامی بھی وزیراعلیٰ کی جانب سلیوٹ کرتے ہوئے نظر آئے۔
وجے اور ترشا کی قربت پہلے بھی زیر بحث رہی
وجے اور ترشا کی ایک ساتھ موجودگی پہلے بھی عوامی اور سوشل میڈیا بحث کا موضوع رہی ہے۔ مئی میں وجے کے وزیراعلیٰ کے عہدے کا حلف لینے کی تقریب میں بھی ترشا کو ان کے خاندان کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔ اس کے بعد دونوں کی قربت کو لے کر مختلف قیاس آرائیاں سامنے آتی رہی ہیں۔ تاہم وجے اور ترشا نے اپنے تعلقات کے بارے میں عوامی طور پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے۔وجے کی اہلیہ سنگیتا سے متعلق بھی حال ہی میں تنازع سامنے آیا تھا۔ انہوں نے مبینہ طور پر طلاق کی درخواست دائر کی تھی، جسے بعد میں واپس لے لیا گیا۔ درخواست میں ازدواجی تعلقات سے متعلق مختلف الزامات کی خبریں سامنے آئی تھیں۔ وجے نے بعد میں ایک عوامی تقریب میں اس معاملے کو ’بے کار‘ قرار دیا تھا۔
وجے کی تقریر بھی ڈی ایم کے کے نشانے پر
’مرسولی‘نے وجے کی یوم آزادی کی تقریر کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ اداریے میں وجے کی اس اپیل کا حوالہ دیا گیا جس میں انہوں نے عوام سے حکومت کے ساتھ کھڑے رہنے اور سرکاری منصوبوں پر عمل درآمد میں تعاون کرنے کی اپیل کی تھی۔دوسری جانب وجے نے اپنی تقریر میں بدعنوانی اور رشوت ستانی کے خلاف حکومت کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تمل ناڈو کو بدعنوانی سے پاک کرنا ان کی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ وجے نے فورٹ سینٹ جارج میں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے پہلی مرتبہ یوم آزادی کے موقع پر قومی پرچم لہرانے کا موقع ملنے پر عوام کا شکریہ بھی ادا کیا۔
اب ٹی وی کے کے جواب کا انتظار
ڈی ایم کے کی تنقید کے بعد اب سب کی نظریں وجے کی سیاسی جماعت تملگا ویٹری کژگم (TVK) کے جواب پر ہیں۔ فی الحال پارٹی کی جانب سے ’مرسولی‘ کے اداریے یا ترشا کی تقریب میں موجودگی پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم ترشا کا پہلی قطار میں بیٹھنا اور وجے کے ساتھ سلیوٹ کا تبادلہ ایک بار پھر تمل ناڈو کی سیاست میں دونوں ناموں کو بحث کا موضوع بنا چکا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






