
دہلی سمیت مختلف ریاستوں میں طلبہ کے احتجاج کے بعد پولیس کارروائی اور درج کی گئی ایف آئی آر کے معاملے پر منگل کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی)سوریہ کانت نے اہم تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آئین شہریوں کو پرامن طریقے سے اپنی بات اور مطالبات رکھنے کا حق دیتا ہے۔ چیف جسٹس نے یہ بھی کہا کہ عدالت ایک سابق جج کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے پر غور کر رہی ہے۔سینئر وکیل ورندا گروور نے سپریم کورٹ سے درخواست کی کہ طلبہ مظاہروں سے متعلق تمام ایف آئی آر منسوخ کرنے کا حکم دیا جائے۔ حکومت نے اس درخواست کی مخالفت کی۔ سالیسٹر جنرل نے عدالت سے کہا کہ ایسے شرپسند افراد کو راحت نہیں ملنی چاہیے جن کا مجرمانہ پس منظر رہا ہے۔دوسری جانب وکیل سید رضوان نے بھی ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے غلط مثال قائم ہوگی۔ رضوان نے دلیل دی کہ پارلیمنٹ تک مارچ غیر قانونی تھا۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ آئین شہریوں کو پرامن انداز میں اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق دیتا ہے۔
تمام فریق ایف آئی آر کی فہرست دیں
سپریم کورٹ نے کہا کہ وہ ایک ہائی پاورڈ کمیٹی تشکیل دے گی اور تمام فریق اس کمیٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کرسکیں گے۔ عدالت نے تمام فریقوں سے احتجاج سے متعلق ایف آئی آر کی فہرست پیش کرنے کو بھی کہا۔سید رضوان نے کہا کہ درخواست گزار سپریم کورٹ سے اپنی خصوصی آئینی طاقت استعمال کرتے ہوئے ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست کررہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا احتجاج میں شامل افراد کو اپنے عمل پر افسوس ہے؟ رضوان نے کہا کہ عدالت ان سے حلف نامہ لے کہ انہیں اپنے عمل پر افسوس ہے۔ ان کے مطابق اگر ایسا نہیں ہوا تو مستقبل میں لوگ ایف آئی آر منسوخ کرنے کے فیصلے کو سپریم کورٹ کی کمزوری کے طور پر پیش کرسکتے ہیں۔اس پر درخواست گزاروں کے وکیل نے رضوان کے موقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کا اس معاملے میں کیا قانونی حق یا ’لوکس‘ ہے؟ رضوان نے جواب دیا کہ تمام فریقوں کا لوکس ہے، کیونکہ یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ تک اس طرح مارچ نہیں کیا جاسکتا اور اس حوالے سے ایک واضح پیغام جانا چاہیے۔ عدالت نے کہا کہ اس تجویز کو نوٹ کرلیا گیا ہے۔
خاتون مظاہرین کو آن لائن دھمکیوں کا معاملہ بھی اٹھا
سماعت کے دوران زخمی پولیس اہلکاروں کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہونے والی وکیل نے کہا کہ کسی بھی کارروائی سے قبل ان کے مؤکلوں کا موقف بھی سنا جانا چاہیے۔ عدالت نے حکومت سے ان معاملات کی فہرست بھی طلب کی جن میں تحقیقات جاری رکھنا ضروری سمجھا جارہا ہے۔ایک وکیل نے خاتون مظاہرین کو مبینہ طور پر ملنے والی آن لائن دھمکیوں کا معاملہ بھی عدالت کے سامنے رکھا۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت ایسی باتوں کو سنجیدگی سے لیتی ہے۔ وکیل نے مطالبہ کیا کہ ان شکایات کو بھی باقاعدہ طور پر درج کیا جائے۔ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ جب عدالت ایک سابق جج کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے رہی ہے تو تمام متعلقہ افراد وہاں اپنا موقف پیش کرسکتے ہیں۔ ورندا گروور نے بھی کہا کہ درخواست گزاروں کو تمام ایف آئی آر کی نقول فراہم کی جائیں تاکہ وہ ان کا جائزہ لے کر عدالت کی معاونت کرسکیں۔وکیل شادان فراست نے مطالبہ کیا کہ خاتون مظاہرین کے خلاف مبینہ طور پر غیر ضروری طاقت استعمال کرنے والے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی حکومت کارروائی کرے۔
کمیٹی میں سابق جج، سابق ڈی جی پی اور سابق سی بی آئی ڈائریکٹر
کمیٹی کی تشکیل پر چیف جسٹس نے کہا کہ کمیٹی معاملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ ایک وکیل نے تجویز دی کہ دونوں فریقوں کی جانب سے نوڈل وکیل مقرر کیے جائیں، جو عدالت اور کمیٹی کی معاونت کرسکیں۔چیف جسٹس نے بتایا کہ کمیٹی میں شامل ہونے کے لیے ایک سابق سپریم کورٹ جج اور سابق ڈی جی پی سے رضامندی حاصل کرلی گئی ہے۔ عدالت نے یہ بھی بتایا کہ ایک سابق سی بی آئی ڈائریکٹر نے بھی کمیٹی میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کردی ہے۔وکیل گوپال شنکرنارائنن نے تجویز دی کہ ایک سابق اٹارنی جنرل کو بھی کمیٹی میں شامل کرنے پر غور کیا جائے۔ اس پر چیف جسٹس نے تمام وکلا سے کہا کہ اگر وہ اپنی تجاویز اسی روز پیش کردیں تو عدالت اگلے دن کمیٹی کی تشکیل سے متعلق حکم جاری کرنے کی کوشش کرے گی۔ سماعت کے دوران ایک وکیل نے کمیٹی میں خاتون رکن کو بھی شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






