
نئی دہلی: بھارت کا ماہی پروری اور آبی زراعت کا شعبہ تیزی سے ملک کی معیشت کا ایک اہم ستون بنتا جا رہا ہے۔ حکومت نے پیر کو کہا کہ بھارت اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا مچھلی پیدا کرنے والا ملک ہے اور عالمی ماہی پروری کی پیداوار میں اس کا حصہ تقریباً 8 فیصد ہے۔ اس کے علاوہ آبی زراعت کی پیداوار میں بھی بھارت دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ جھینگے کی پیداوار اور برآمد کے معاملے میں وہ عالمی سطح پر نمایاں ممالک میں شامل ہے۔
تقریباً 3 کروڑ افراد کی روزی روٹی ماہی پروری سے وابستہ
ماہی پروری، مویشی پروری اور ڈیری کی وزارت کے مطابق ملک میں تقریباً 3 کروڑ ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی روزی روٹی اس شعبے سے وابستہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی ماہی پروری کی ویلیو چین کے مختلف مراحل میں بڑے پیمانے پر روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوتے ہیں۔ وزارت نے کہا کہ ماہی پروری کا شعبہ نہ صرف غذائی تحفظ اور دیہی روزگار کے لیے اہم ہے بلکہ ملک کی اقتصادی سرگرمیوں اور روزگار پیدا کرنے میں بھی اس کا اہم کردار ہے۔
2015 سے اب تک 39,272 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری
حکومت کے مطابق سال 2015 سے اب تک ماہی پروری کے شعبے کی پائیدار ترقی اور جدید کاری کے لیے 39,272 کروڑ روپے کی مجموعی سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ یہ سرمایہ کاری بلیو ریوولوشن اسکیم، فشریز اینڈ ایکواکلچر انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ (ایف آئی ڈی ایف)، پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا (پی ایم ایم ایس وائی) اور اس کی ذیلی اسکیم پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا (پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی) کے ذریعے کی گئی ہے۔
جدید ٹیکنالوجی میں نوجوانوں اور کسانوں کی بڑھتی شمولیت
وزارت نے کہا کہ بھارت کے ماہی پروری کے شعبے کا مستقبل نوجوانوں، ماہی گیروں اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی فعال شمولیت پر منحصر ہے۔ آج یہ طبقہ جدید آبی زراعت کی تکنیک، ڈیجیٹل ٹریس ایبلٹی، کولڈ چین مینجمنٹ، ویلیو ایڈیشن، برانڈنگ، مارکیٹنگ اور برآمدی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ نوجوانوں اور کاروباری ذہن رکھنے والے کسانوں کی بڑھتی ہوئی شمولیت بھارت کی بلیو اکانومی کو نئی رفتار دے گی اور ماہی پروری کے شعبے کو اقتصادی ترقی کے ایک اہم انجن کے طور پر قائم کرنے میں مدد کرے گی۔
پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کو 2024 میں منظوری
قابل ذکر ہے کہ مرکزی کابینہ نے 8 فروری 2024 کو پردھان منتری متسیہ کسان سمردھی سہ یوجنا کو منظوری دی تھی۔ یہ پردھان منتری متسیہ سمپدا یوجنا کے تحت مرکزی شعبے کی ایک ذیلی اسکیم ہے، جسے مالی سال 2023-24 سے 2026-27 تک چار سال کی مدت کے لیے نافذ کیا جا رہا ہے۔ اس اسکیم کے لیے 6,000 کروڑ روپے کی تخمینی رقم مختص کی گئی ہے۔ اسے ملک کی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں نافذ کیا جا رہا ہے۔
پیداوار اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی آمدنی بڑھانے پر زور
اس اسکیم کا مقصد مالی اور تکنیکی اقدامات کے ذریعے ماہی پروری کے شعبے کی ساختی کمزوریوں کو دور کرنا اور طویل مدتی ادارہ جاتی اصلاحات کو فروغ دینا ہے۔ حکومت کے مطابق یہ اسکیم پیداوار میں اضافہ، جدید ٹیکنالوجی اپنانے، مارکیٹ تک رسائی مضبوط بنانے اور مچھلی پالنے والے کسانوں کی آمدنی بڑھانے پر مرکوز ہے۔
استفادہ کنندگان کے ساتھ خصوصی مکالمہ پروگرام
یوم آزادی کی تقریب کے بعد محکمہ ماہی پروری نے پی ایم-ایم کے ایس ایس وائی کے استفادہ کنندگان اور ان کے شریک حیات کے ساتھ ایک خصوصی مکالمہ پروگرام بھی منعقد کیا۔ اس پروگرام کا مقصد ماہی پروری کے شعبے میں استفادہ کنندگان کی خدمات اور تعاون کو سراہنا اور مختلف سرکاری اسکیموں کے ذریعے ان کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں کو اجاگر کرنا تھا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






