
ملک کی سیاست میں ان دنوں بیانات سے زیادہ سوشل میڈیا کی ’پیروڈی وار‘ کا درجۂ حرارت بڑھا ہوا ہے! لوگ ابھی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) کے ٹرینڈ سے پوری طرح باہر بھی نہیں نکلے تھے کہ اب ایک اور نئی پارٹی ’دماغی نکسل جنتا پارٹی‘ (DNJP) میدان میں آ گئی ہے۔ 15 اگست کو لال قلعے کی فصیل سے وزیر اعظم نریندر مودی کے ’دماغی نکسل‘ والے بیان پر تنازع گرم ہوتے ہی انٹرنیٹ صارفین نے اس کے نام پر اپنی نئی ’سیاسی دکان‘ کھول لی۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) اور انسٹاگرام پر یہ نیا پیج سامنے آتے ہی چھا گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے فالوورز کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
راتوں رات فالوورز کی برسات
خبر لکھے جانے تک انسٹاگرام پر اس پیج کے 1,86,000 (186K) سے زیادہ فالوورز ہو چکے ہیں، جبکہ یہ پیج صرف 35 منتخب اکاؤنٹس کو فالو کرتا ہے۔ دوسری جانب ایکس پر یہ 17 اکاؤنٹس کو فالو کر رہا ہے، جن میں کانگریس لیڈر راہل گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، عام آدمی پارٹی کے کنوینر اروند کیجریوال، یوٹیوبر دھرو راٹھی، کامیڈین کنال کامرا، اداکار پرکاش راج، فیکٹ چیکر محمد زبیر، شیام میرا سنگھ اور پیروڈی کنگ ’روفل گاندھی 2.0‘ شامل ہیں۔
ڈی این جے پی نے بائیو میں کیا لکھا؟
سیاست کے اس تازہ ترین ڈرامے میں اس نئی ’پارٹی‘ کا بائیو سب سے زیادہ دلچسپ ہے۔ اکاؤنٹ میں اس کے بانی کا نام ’ایک دماغی بھارتی‘ لکھا گیا ہے، جبکہ شریک بانی کے طور پر براہِ راست ’56 انچ‘ کا ٹھپہ لگایا گیا ہے۔ وزیر اعظم مودی کے بیان پر طنز کرتے ہوئے بنائے گئے اس پیج نے سامنے آتے ہی انٹرنیٹ پر ہلچل مچا دی ہے اور لوگ اس کے میمز بڑے پیمانے پر شیئر کر رہے ہیں۔
پرکاش راج کی پوسٹ کو کیا ری ٹویٹ
اس اکاؤنٹ نے سامنے آتے ہی جنوبی ہند کے معروف اداکار پرکاش راج کی ایک وائرل پوسٹ کو ری ٹویٹ کرکے سیاسی طنز کا انداز اختیار کیا۔ دراصل پرکاش راج نے اپنی پوسٹ میں لوگوں کو نصیحت کرتے ہوئے لکھا تھا، ’’دماغی بنو… بے وقوف نہیں۔ سوال کرو… غلامی نہیں۔‘‘یہ بھی قابل ذکر ہے کہ جیسے ہی وزیر اعظم مودی نے یومِ آزادی کی تقریر میں ’دماغی نکسل‘ سوچ کا ذکر کیا، اپوزیشن رہنماؤں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا۔ کانگریس کے سینئر رہنما پی چدمبرم نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں ’دماغی نکسل‘ ہونے پر فخر ہے۔
رِجِجو نے وزیر اعظم کے بیان کی وضاحت کی
معاملہ بڑھنے کے بعد مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور کیرن رِجِجو کو وضاحت کے لیے سامنے آنا پڑا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وزیر اعظم نے کسی اپوزیشن لیڈر کو ’دماغی نکسل‘ نہیں کہا تھا۔ رِجِجو کے مطابق یہ اصطلاح ان لوگوں کے لیے استعمال کی گئی ہے جو ماؤ نوازوں کی حمایت کرتے ہیں، آئین کو نہیں مانتے، علیحدگی پسندوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا شمال مشرقی ریاستوں کو ہندوستان سے الگ کرنے والے ’چکن نیک‘ کو کاٹنے کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے شرجیل امام کی ایک پرانی ویڈیو بھی شیئر کی۔
CJP کے بعد اب DNJP، لوگوں نے لی چٹکی
سوشل میڈیا پر اب ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (CJP) اور ’دماغی نکسل جنتا پارٹی‘ (DNJP) کو لے کر طنز و مزاح کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ لوگ چٹکی لیتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ سیاست دانوں کے ایک بیان سے انٹرنیٹ پر پوری کی پوری ’آزاد سیاسی پارٹیاں‘ وجود میں آ جاتی ہیں۔ فی الحال انسٹاگرام سے لے کر ایکس تک اس نئے اکاؤنٹ کے فالوورز تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور اس کی پوسٹس بھی وائرل ہو رہی ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






