
ئی دہلی:15 اگست 2026 کو بھارت اپنی آزادی کی 80ویں سالگرہ منا رہا ہے۔ ملک بھر میں آزادی کے 79 برس مکمل ہونے کا جشن منایا جا رہا ہے۔ اسکولوں سے لے کر تاریخی لال قلعے تک قومی پرچم ترنگا پوری شان سے لہرایا جا رہا ہے اور ہر طرف حب الوطنی کا رنگ نظر آ رہا ہے۔ لیکن کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ 15 اگست 1947 کو جب دہلی میں آزادی کا تاریخی جشن منایا جا رہا تھا، تب بابائے قوم مہاتما گاندھی وہاں کیوں موجود نہیں تھے؟15 اگست 1947 کو دہلی میں برطانوی حکومت سے اقتدار کی منتقلی کا تاریخی عمل جاری تھا۔ پارلیمنٹ ہاؤس میں آزادی کا یادگار لمحہ درج کیا جا رہا تھا اور ملک بھر میں خوشیاں منائی جا رہی تھیں۔ دوسری جانب مہاتما گاندھی اس وقت کلکتہ کے بیلیاغاٹا علاقے میں موجود تھے۔ بنگال اس وقت شدید فرقہ وارانہ کشیدگی اور تشدد کی زد میں تھا۔ ہندو اور مسلم برادریوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے عام لوگوں کی زندگی کو مشکل بنا دیا تھا۔
گاندھی نے جشن کے بجائے امن کو ترجیح دی
مہاتما گاندھی کا ماننا تھا کہ جب ملک کے ایک حصے میں لوگ ایک دوسرے کا خون بہا رہے ہوں تو ایسے وقت میں آزادی کا جشن منانا مناسب نہیں۔ اسی لیے انہوں نے دہلی جانے کے بجائے تشدد سے متاثرہ علاقے میں رہ کر امن قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی پوری توجہ لوگوں کے درمیان اعتماد بحال کرنے، فرقہ وارانہ تشدد روکنے اور ہندو مسلم اتحاد کو مضبوط کرنے پر مرکوز تھی۔اس دوران جواہر لال نہرو اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے مہاتما گاندھی کو خط بھیجا۔ انہوں نے لکھا کہ 15 اگست ملک کا پہلا یومِ آزادی ہے اور آپ قوم کے باپو ہیں، اس لیے تقریب میں شرکت کرکے اپنا آشیرواد دیں۔گاندھی نے اس دعوت کے جواب میں واضح کیا کہ جب کلکتہ میں ہندو اور مسلمان ایک دوسرے کی جان لے رہے ہوں تو وہ جشن منانے کے لیے کیسے آسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ دنگے روکنے کے لیے اپنی جان تک دینے کو تیار ہیں۔
آزادی کا مطلب صرف اقتدار کی منتقلی نہیں تھا
مہاتما گاندھی کے لیے آزادی کا مطلب صرف برطانوی حکومت سے اقتدار حاصل کرنا نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ آزادی کا فائدہ ملک کے آخری فرد تک پہنچے، غربت کم ہو اور ہندو مسلم اتحاد مضبوط ہو۔ ان کے نزدیک حقیقی آزادی اسی وقت مکمل ہوسکتی تھی جب ملک کے تمام شہری امن، بھائی چارے اور باہمی اعتماد کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔15 اگست 1947 کو بھی گاندھی نے لوگوں سے امن برقرار رکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ بھائی چارے سے پیش آنے کی اپیل کی۔ ان کی کوششوں کا اثر بھی نظر آیا۔ کلکتہ، جہاں کچھ عرصہ پہلے تک فرقہ وارانہ تشدد کا ماحول تھا، آزادی کے آس پاس کے دنوں میں نسبتاً امن کی جانب بڑھنے لگا۔
اقتدار میں آنے والے رہنماؤں کو بھی دی نصیحت
آزادی کے بعد مہاتما گاندھی نے اقتدار میں آنے والے لیڈروں کو بھی خبردار کیا کہ حکومت کو عیش و عشرت یا ذاتی مفاد کا ذریعہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے نئے وزرا کو یاد دلایا کہ آزاد بھارت میں عہدے اور اختیارات کے ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہیں۔گاندھی نے اقتدار کو ’کانٹوں کا تاج‘ قرار دیتے ہوئے غریبوں، دیہات اور عام لوگوں کی خدمت کو اولین ترجیح دینے کا پیغام دیا۔ ان کا ماننا تھا کہ آزادی کا اصل مقصد عوام کی زندگی بہتر بنانا اور ملک کے کمزور ترین طبقے کو بااختیار بنانا ہے۔
’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ میں بھی ذکر
مہاتما گاندھی کے 15 اگست 1947 کے کردار کا ذکر لیری کولنز اور ڈومینک لاپیئر کی معروف کتاب ’فریڈم ایٹ مڈ نائٹ‘ میں بھی ملتا ہے۔ کتاب کے مطابق جب پورا ملک آزادی کا جشن منا رہا تھا، اس وقت گاندھی بنگال میں فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے اور امن قائم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔وہ کلکتہ کے ایک مسلم اکثریتی علاقے میں واقع حیدری منزل میں مقیم تھے۔ انہوں نے بنگال کے سابق وزیر اعلیٰ ایچ ایس سہروردی کے ساتھ مل کر لوگوں سے امن قائم رکھنے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کی اپیل کی۔یوں 15 اگست 1947 کو جب پورا ملک آزادی کا جشن منا رہا تھا، مہاتما گاندھی نے جشن کے بجائے امن اور انسانیت کو ترجیح دی۔ ان کی نظر میں آزادی کی حقیقی کامیابی اسی وقت تھی جب ملک میں خونریزی کے بجائے بھائی چارہ، نفرت کے بجائے محبت اور تقسیم کے بجائے اتحاد قائم ہو۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






