
نئی دہلی : اکثر لوگ ملازمت چھوڑ کر فلمی دنیا میں نام اور شہرت حاصل کرنے کا خواب دیکھتے ہیں، لیکن مایوری کانگو کی کہانی اس کے بالکل برعکس ہے۔ محض 15 سال کی عمر میں آئی آئی ٹی کانپور کا داخلہ امتحان پاس کرنے والی مایوری نے تعلیم چھوڑ کر اداکاری کو اپنا راستہ بنایا اور 90 کی دہائی میں اپنی معصوم شخصیت اور شاندار اداکاری سے لاکھوں دلوں میں جگہ بنا لی۔ تاہم، جب ان کا فلمی کیریئر کامیابی کی بلندیوں پر تھا، تب انہوں نے گلیمر کی دنیا کو خیرباد کہہ کر ایک نئی سمت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کا سفر بتاتا ہے کہ کامیابی صرف فلموں میں نام کمانے کا نام نہیں، بلکہ زندگی میں اپنی پسند کا راستہ منتخب کرنے میں بھی ہے۔آج مایوری کانگو دنیا کی معروف ٹیکنالوجی اور اشتہاری کمپنیوں میں اعلیٰ قیادتی کردار ادا کر رہی ہیں۔ مایوری کی پیدائش 15 اگست 1982 کو مہاراشٹر کے اورنگ آباد، جسے اب چھترپتی سمبھاجی نگر کہا جاتا ہے، میں ہوئی تھی۔ ان کے والد بھال چندر کانگو سیاست دان تھے، جبکہ والدہ سوجاتا کانگو معروف تھیٹر فنکارہ تھیں۔ تعلیم یافتہ اور ثقافتی طور پر مضبوط خاندانی ماحول نے مایوری کی فکری اور فنکارانہ نشوونما میں اہم کردار ادا کیا۔
تعلیم سے ان کی گہری وابستگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے کم عمری میں ہی آئی آئی ٹی کا داخلہ امتحان پاس کر لیا تھا۔ تاہم قسمت نے ان کے لیے ایک مختلف راستہ منتخب کر رکھا تھا۔ ایک مرتبہ جب وہ اپنی والدہ کے ساتھ ممبئی میں ایک شوٹنگ پر گئی تھیں تو معروف فلم ساز سعید اختر مرزا کی نظر ان پر پڑی۔ مرزا نے انہیں بابری مسجد انہدام کے پس منظر پر بننے والی فلم ’نسیم‘ (1995) میں مرکزی کردار کی پیشکش کی۔ تعلیم اور فن کے درمیان فیصلہ کرتے ہوئے مایوری نے فلم کو ترجیح دی اور یوں ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔’نسیم‘ میں ان کی حساس اور پختہ اداکاری نے فلمی دنیا کی اہم شخصیات کی توجہ حاصل کی۔ معروف ہدایت کار مہیش بھٹ ان کی اداکاری سے متاثر ہوئے اور انہیں اپنی رومانوی ڈرامہ فلم ’پاپا کہتے ہیں‘ (1996) میں جوگل ہنسراج کے مقابل کاسٹ کیا۔ فلم کی موسیقی بے حد مقبول ہوئی۔ جاوید اختر کے لکھے اور ادت نارائن کے گائے گیت ’گھر سے نکلتے ہی‘ نے 90 کی دہائی کے نوجوانوں میں خاص مقبولیت حاصل کی اور ایک مقبول لو اینتھم بن گیا۔
اس کامیابی کے بعد مایوری نے کئی فلموں میں کام کیا۔ 1997 کی ’بیتابی‘ باکس آفس پر کامیاب نہیں ہو سکی، جبکہ 1999 کی ’ہوگی پیار کی جیت‘ نیم کامیاب رہی۔ سال 2000 میں ریلیز ہونے والی ایکشن تھرلر فلم ’بادل‘ کامیاب رہی، جس میں مایوری نے ’سونی‘ کا معاون کردار ادا کیا تھا۔ فلم میں بوبی دیول اور رانی مکھرجی نے مرکزی کردار ادا کیے تھے۔تقریباً 16 فلموں، جن میں سے کئی ریلیز بھی نہیں ہو سکیں، اور متعدد ٹیلی ویژن سیریلز، جن میں ’ڈالر بہو‘ اور ’کرشمہ: دی میریکلز آف ڈیسٹنی‘ شامل ہیں، میں کام کرنے کے بعد مایوری کانگو نے 28 دسمبر 2003 کو این آر آئی کاروباری شخصیت آدتیہ ڈھلن سے شادی کی اور امریکہ منتقل ہو گئیں۔ وہاں انہوں نے سٹی یونیورسٹی آف نیویارک سے مارکیٹنگ اور فنانس میں ایم بی اے کیا اور 2007 میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ یہ فیصلہ ان کے پیشہ ورانہ سفر میں ایک نئے دور کی بنیاد ثابت ہوا۔
مایوری نے اپنی کاروباری صلاحیتوں کے ذریعے ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور اشتہارات کے شعبے میں نمایاں مقام بنایا۔ انہوں نے 2007 میں 360i نیویارک میں ایسوسی ایٹ میڈیا مینیجر کے طور پر اپنے کارپوریٹ کیریئر کا آغاز کیا۔ 2012 میں وہ ’زینتھ‘ انڈیا کی چیف ڈیجیٹل آفیسر بنیں، 2016 میں ’پرفارمکس‘ کی مینیجنگ ڈائریکٹر مقرر ہوئیں اور 2019 میں گوگل انڈیا میں انڈسٹری ہیڈ، ایجنسی پارٹنرشپ کے عہدے پر فائز ہوئیں۔موجودہ وقت میں مایوری کانگو چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ہندوستانی آپریشنز کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر میڈیا، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے متعلق حل کی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ انسان اگر اپنی صلاحیت، تعلیم اور تجربے کو صحیح سمت میں استعمال کرے تو کامیابی کے لیے صرف ایک شعبے تک محدود رہنا ضروری نہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






