
نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی اور اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی سے متعلق ’میلوڈی‘ میمز ایک بار پھر سیاسی بحث کا موضوع بن گئے ہیں۔ اسی تنازع پر شیوسینا (یو بی ٹی) کی لیڈر اور سابق راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے دونوں سیاسی جانبوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے بارے میں مذاق، طنز اور تمسخر کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا تھا، جب وزیر اعظم نریندر مودی کے اٹلی کے دورے کے دوران جارجیا میلونی نے ان کے ساتھ ایک تصویر شیئر کی تھی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے ناموں کو ملا کر ’میلوڈی‘ کے عنوان سے سوشل میڈیا پر مختلف مزاحیہ میمز اور پوسٹس گردش کرنے لگیں۔ اب کانگریس لیڈرراہل گاندھی کی جانب سے وزیر اعظم مودی کی خارجہ پالیسی کی نقل اتارنے کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بار پھر اس نوعیت کے میمز سامنے آ رہے ہیں۔
پرینکا چترویدی نے اس معاملے پر تقریباً دو سال پرانی اپنی ایک سوشل میڈیا پوسٹ دوبارہ شیئر کرتے ہوئے موجودہ صورتحال پر ناراضی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل جب انہوں نے اس مسئلے کو اٹھایا تھا، اس وقت بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی اور ٹرول ’میلوڈی‘ سے متعلق میمز اور مذاق کا دفاع کر رہے تھے۔ اب انہیں اچانک احساس ہوا ہے کہ جس طرح کا مذاق پہلے کیا جا رہا تھا، اسی طرح کا عمل دوسری جانب کے لوگ بھی کر رہے ہیں۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ ہندوستان میں تمام سیاسی جماعتیں خواتین کی قیادت کی بات تو کرتی ہیں، لیکن عملی طور پر اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ دکھاتی ہیں۔ پرینکا نے دونوں فریقوں کو مشورہ دیا کہ انہیں سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خواتین کی قیادت کو حقیقتاً قبول کرنا سیکھنا چاہیے۔پرینکا چترویدی نے مزید کہا کہ سیاسی طنز، طعنے، مذاق یا ہنسی ٹھٹھے کے باوجود خواتین اپنی پیش قدمی روکنے والی نہیں ہیں۔ ان کے مطابق خواتین مسلسل آگے بڑھتی رہیں گی اور کامیابی کی بلند ترین منزل تک پہنچنے کے لیے اپنا سفر جاری رکھیں گی۔
دو سال قبل کی اپنی پوسٹ میں پرینکا نے وزیر اعظم جارجیا میلونی اور وزیر اعظم نریندر مودی سے متعلق بنائے جانے والے میمز پر بھی اعتراض کیا تھا۔ انہوں نے اسے حد سے زیادہ بڑھ جانے والا، عجیب اور شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس طرح کے میمز ہندوستان میں مزاح کے معیار کی بھی منفی تصویر پیش کرتے ہیں۔موجودہ تنازع کے پس منظر میں پرینکا چترویدی کا مؤقف ایک بار پھر سیاسی بحث میں سامنے آیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، لیکن خواتین کی قیادت کرنے والی شخصیات کو نشانہ بنانے کے لیے ذاتی نوعیت کے مذاق اور تضحیک سے گریز کیا جانا چاہیے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






