
ھارکھنڈ کی راجدھانی رانچی میں جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانی نظام میں اصلاحات، شفافیت اور دیگر مطالبات کو لے کر طلبہ کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ رانچی کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں حکومت اوراحتجاج کرنے والے طلبا کے نمائندوں کے درمیان ہفتہ (8 اگست) کو ہوئی بات چیت کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ طلبا اپنے مطالبات پرقائم ہیں، جس کے باعث جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امتحانات میں اصلاحات اورشفافیت کے مطالبے سے متعلق احتجاج جاری رہے گا۔
اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے نمائندہ وفد اورجے پی ایس سی-جے ایس ایس سی امیدوارنیائے منچ (دیویندرناتھ مہتوگروپ) کے نمائندوں کے درمیان آج ہفتہ (8 اگست، 2026) کومورہ آبادی واقع بات چیت ہوئی، لیکن اس دوران کسی ٹھوس حل پراتفاق نہیں ہوسکا۔ بات چیت کے بے نتیجہ رہنے کے بعد طلبہ نے اپنا احتجاج جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ طلبا جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں اپنے مطالبات سے متعلق مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی جے ایل کے ایم کی جانب سے جاری احتجاج بھی جاری رہے گا۔
دوردراز کے طلبا ای میل کے ذریعہ بھیج سکیں گے شکایات
اس دوران حکومت کی جانب سے ایک ای میل ایڈریس Jpsc.jssc.feedback@gmail.com بھی جاری کیا گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ جو طلبا دوردرازعلاقوں میں رہتے ہیں اور رانچی نہیں پہنچ سکتے، وہ اپنی شکایات اورتجاویزاس ای میل کے ذریعہ حکومت تک پہنچا سکتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے بات چیت میں وزیردیپیکا پانڈے سنگھ، سدیویہ کمارسونواور سنجے کماریادوشامل ہوئے۔ وہیں طلبا کی جانب سے دین بندھومنڈل، پوجا کماری، چندن کمار، بمل کمار، پریم کمار، روی شنکر، امیت کمارشرما اوررام اوتارمہتونے نمائندگی کی۔
دیویندر ناتھ مہتو6 دن سے بھوک ہڑتال پر
اس سے قبل جمعہ کوبھی حکومت کے نمائندہ وفد نے احتجاج کرنے والے طلبا کے دوسرے گروپ کے نمائندوں سے بات چیت کی تھی، لیکن اس ملاقات میں بھی کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا تھا۔ ہفتہ کے روزایک بارپھربات چیت ہوئی، تاہم اس کا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ اگرچہ حکومت اورطلبا کے درمیان بات چیت کے تمام راستے اب بھی کھلے ہوئے ہیں، لیکن طلبا کا احتجاج جاری ہے۔ طلبہ کی حمایت میں جے ایل کے ایم لیڈردیویندرناتھ مہتوگزشتہ 6 دن سے بھوک ہڑتال پربیٹھے ہوئے ہیں۔
کیا ہیں طلبا کے مطالبات؟
طلبا جے پی ایس سی اورجے ایس ایس سی کے امتحانی نظام میں اصلاحات اورمکمل شفافیت سمیت کئی مطالبات کررہے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ 14ویں جے پی ایس سی امتحان میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات صرف سی آئی ڈی سے نہیں بلکہ سی بی آئی اورانفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے بھی کرائی جانی چاہئے۔ طلبا کا کہنا ہے کہ انہیں صرف سی آئی ڈی کی تحقیقات پراعتماد نہیں ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام کوشفاف بنایا جائے اورمبینہ بے ضابطگیوں کی غیرجانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں۔ فاسٹ ٹریک کورٹ کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔ طلباء کا کہنا ہے کہ کیس کوتیزکرنے کے لیے ایک خصوصی فاسٹ ٹریک عدالت بنائی جائے، مقررہ مدت میں سماعت مکمل کرکے انصاف کی فراہمی کویقینی بنایا جائے۔ ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ٹی ڈی پی ایل کے ذریعہ منعقد ہونے والے امتحانات کومنسوخ کیا جائے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ متنازعہ ایجنسی ٹی ایس آرڈیٹا پروسیسنگ پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے منعقد کئے جانے والے تمام امتحانات کوفوری طورپرمنسوخ کیا جائے۔ ٹی ڈی پی ایل کوبلیک لسٹ کیا جانا چاہئے اورمستقبل کے تمام مسابقتی امتحانات شفاف اورقابل اعتماد کمپنیوں کے ذریعے کرائے جائیں۔ مزید برآں، طلباء مطالبہ کرتے ہیں کہ بدعنوانی کے سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے تمام جے پی ایس سی -جے ایس ایس سی عہدیداروں کوفوری طورپران کے عہدوں سے ہٹایا جائے اوران کی جگہ صاف ستھری شہرت والے عہدیداروں کوتعینات کیا جائے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






