
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتہ کو ہندوستان کے تیزی سے ترقی کرتے میڈیکل ٹیکنالوجی یعنی میڈ ٹیک شعبے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ گھریلو مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے، درآمدات پر انحصار کم کرنے اور حکومت کی مختلف ترغیبی اسکیموں کے باعث بھارت ایک قابلِ اعتماد عالمی میڈ ٹیک پارٹنر کے طور پر ابھر رہا ہے۔وزیر اعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر مرکزی وزیر صحت و خاندانی بہبود جے پی نڈا کی جانب سے لکھا گیا ایک مضمون شیئر کیا۔ اس مضمون میں بھارت کے میڈیکل ڈیوائسز مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ہونے والی تبدیلیوں اور خود کفیل میڈ ٹیک ایکو سسٹم کی تعمیر کی سمت میں حاصل کی گئی پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔پی ایم مودی نے کہا کہ بھارت کا میڈ ٹیک شعبہ گھریلو پیداوار میں اضافے، درآمدی انحصار میں کمی اور پروڈکشن لنکڈ انسینٹیو (پی ایل آئی) اسکیم اور میڈیکل ڈیوائس پارکس جیسی حکومتی پہل کے باعث مسلسل مضبوط ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سستی، قابلِ رسائی اور معیاری صحت خدمات کے ہدف کے ساتھ بھارت عالمی سطح پر ایک قابلِ اعتماد میڈ ٹیک پارٹنر بننے کی جانب آگے بڑھ رہا ہے۔
50 سے زائد جدید طبی آلات کی تیاری شروع
جے پی نڈا نے اپنے مضمون میں کہا کہ حکومت ملک میں میڈیکل آلات کی گھریلو تیاری کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم اقدامات کر رہی ہے۔ ان میں پی ایل آئی اسکیم، میڈیکل ڈیوائس پارکس اور فارما-میڈ ٹیک میں ریسرچ اینڈ انوویشن پروموشن (پی آر آئی ٖٖپی)اسکیم نمایاں ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پی ایل آئی اسکیم کے تحت بھارت میں اب تک 50 سے زائد جدید میڈیکل آلات کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔ اس شعبے میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں مسلسل اضافہ بھی سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔نڈا کے مطابق میڈیکل آلات کی درآمد پر انحصار کم ہونے سے سپلائی چین مزید مضبوط ہوگی اور لاگت کم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس سے جدید تشخیصی آلات، امیجنگ سسٹمز، امپلانٹس اور آئی سی یو میں استعمال ہونے والے آلات کی دستیابی اور عوام تک رسائی بہتر ہونے کی امید ہے۔
اے آئی اور روبوٹکس میں بھی بڑے مواقع
مرکزی وزیر صحت نے کہا کہ میڈ ٹیک سیکٹر میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، سافٹ ویئر ایز اے میڈیکل ڈیوائس (SaMD)، کنیکٹڈ میڈیکل ڈیوائسز، روبوٹکس اور ریموٹ ڈائیگناسٹکس جیسے ابھرتے شعبوں میں بھی بڑے مواقع موجود ہیں۔ان کے مطابق آنے والے برسوں میں یہ جدید ٹیکنالوجیز صحت کی خدمات کے موجودہ نظام کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
15 سے 16 ارب ڈالر کا ہے میڈ ٹیک بازار
جے پی نڈا کے مطابق اس وقت بھارت کا میڈ ٹیک بازار تقریباً 15 سے 16 ارب ڈالر کا ہے اور یہ تقریباً 12 فیصد سالانہ شرح سے ترقی کر رہا ہے۔ بھارت اس وقت ایشیا کی چوتھی سب سے بڑی میڈیکل ٹیکنالوجی مارکیٹ ہے اور عالمی سطح پر بھی 20 بڑی مارکیٹوں میں شامل ہے۔حکومت ریگولیٹری نظام، ٹیسٹنگ سہولیات اور کلینیکل ڈیٹا کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے پر بھی خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس کا مقصد مریضوں کی حفاظت یقینی بنانا اور ہندوستانی طبی آلات کو عالمی معیار کے مطابق بنانا ہے۔
2047 تک 250 ارب ڈالر تک پہنچنے کی امید
وزیر صحت نے کہا کہ ایک مضبوط میڈیکل ڈیوائس صنعت نہ صرف مینوفیکچرنگ اور روزگار کے مواقع بڑھائے گی بلکہ برآمدات اور تکنیکی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ اس کے نتیجے میں صحت کی خدمات زیادہ سستی، قابلِ رسائی اور مضبوط بن سکتی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ اسی ہفتے جاری ایک رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ بھارت کی میڈیکل ڈیوائس صنعت مستقبل میں عالمی سطح پر ایک بڑی طاقت بن سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق موجودہ تقریباً 14 ارب ڈالر کی بھارتی طبی آلات کی صنعت اس دہائی کے اختتام تک 30 سے 50 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ 2047 تک اس کا حجم 250 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






