
نئی دہلی : ہندوستان کی صدیوں پرانی ہینڈلوم روایت کو خراج تحسین پیش کرنے والے قومی یوم ہینڈلوم کے موقع پر آندھرا پردیش کی مشہور منگل گیری ہینڈلوم آرٹ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی۔ راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ وجے چنتکایلا نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ہاتھ سے تیار کی گئی روایتی منگل گیری شال پیش کی۔ اس موقع پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نتن نوین سمیت کئی سینئر رہنما بھی موجود تھے۔منگل گیری ہینڈلوم شال کی یہ پیش کش محض ایک تحفہ نہیں بلکہ آندھرا پردیش کے محنتی بُنکروں اور نسل در نسل منتقل ہونے والی ان کی روایتی فن کاری کو ملک کی اعلیٰ قیادت تک پہنچانے کی ایک کوشش بھی تھی۔ وجے چنتکایلا نے اس موقع کو ریاست کے مالا مال دستکاری ورثے کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا۔قومی یومِ ہینڈلوم کے موقع پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی ملک بھر کے بُنکروں اور کاریگروں کے کردار کو یاد کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہینڈلوم شعبہ دیہی معیشت کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ خواتین کی قیادت میں ترقی اور خود کفیل ہندوستان کے مقصد کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی جذبے کے تحت منگل گیری شال کی پیش کش کو بھی بُنکروں کے احترام کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
نسلوں سے چلی آ رہی بُنائی کی شاندار روایت
منگل گیری ہینڈلوم اپنی منفرد بُنائی، سادہ ڈیزائن اور بہترین معیار کے لیے مشہور ہے۔ اسے جغرافیائی شناخت یعنی جی آئی ٹیگ بھی حاصل ہے، جو اس کی مخصوص شناخت اور علاقائی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اس فن کو زندہ رکھنے میں کئی نسلوں سے بُنائی کے پیشے سے وابستہ خاندانوں کا اہم کردار رہا ہے۔ ان کی محنت اور مہارت نے منگل گیری ہینڈلوم کو ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی شناخت دلائی ہے۔آندھرا پردیش حکومت بھی مقامی ہینڈلوم صنعت کو فروغ دینے کے لیے متعدد اقدامات کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ این چندرابابو نائیڈو کی قیادت میں حکومت کی توجہ بُنکروں کو معاشی تحفظ فراہم کرنے، ان کی مصنوعات کے لیے بہتر بازار دستیاب کرانے اور روایتی فن کو نئی شناخت دلانے پر مرکوز ہے۔وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد وجے چنتکایلا نے کہا کہ قومی یوم ہینڈلوم کے موقع پر منگل گیری شال پیش کرنا ریاست کے تمام بُنکروں کے احترام کی علامت ہے۔ انہوں نے اس پیش کش کو ان کاریگروں کے نام وقف قرار دیا جو اپنی محنت اور مہارت کے ذریعے ہندوستان کے ثقافتی ورثے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
روایتی فن کو مل رہی نئی سمت
دوسری جانب منگل گیری سے رکن اسمبلی اور وزیر اطلاعات و ٹیکنالوجی نارا لوکیش بھی علاقے کی ہینڈلوم روایت کو فروغ دینے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کی جانب سے شروع کی گئی ’نیتنّاکو سیوا‘ اسکیم کے تحت ہینڈلوم سے وابستہ بُنکر خاندانوں کو ہر سال 25 ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ بُنکروں کے لیے خصوصی اسکول قائم کرنے کی پہل بھی کی گئی ہے، تاکہ نئی نسل اس روایتی فن کو سیکھ سکے اور اسے مستقبل میں مزید آگے بڑھا سکے۔ منگل گیری شال کی وزیر اعظم کو پیش کش نے ایک بار پھر اس قدیم ہینڈلوم روایت اور اس سے وابستہ بُنکروں کی محنت کو قومی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82





