
جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں گزشتہ 14 دنوں سے طلبہ جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں احتجاج کر رہے ہیں۔ یہ مظاہرہ JPSC اور JSSC امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف جاری ہے۔ طلبہ کا مطالبہ ہے کہ سال 2019 سے اب تک JPSC اور JSSC کے تمام متنازع امتحانات کی سی بی آئی جانچ کرائی جائے۔طلبہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ جن امتحانات میں بے ضابطگیاں ثابت ہوں، انہیں منسوخ کرکے دوبارہ امتحان کرایا جائے۔ اس کے علاوہ ذمہ دار افسران، ملازمین، دلالوں اور مبینہ فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی، بھرتی کے عمل میں مکمل شفافیت اور مستقبل میں پیپر لیک روکنے کے لیے مضبوط سکیورٹی نظام نافذ کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
دھونی کی حمایت کا انتظار کیوں؟
ان مطالبات کے درمیان طلبہ کے ایک طبقے کو رانچی کے کرکٹ اسٹار اور بھارتی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مہندر سنگھ دھونی (MS Dhoni) کی حمایت کا انتظار ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ رانچی سے تعلق رکھنے کے باوجود دھونی نے اب تک طلبہ کے احتجاج پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے جس کی وجہ سے دھونی طلبہ کے مظاہرے پر اپنی رائے ظاہر کرنے سے گریز کر رہے ہیں؟
دھونی صرف کرکٹر نہیں
مہندر سنگھ دھونی نے 15 اگست 2020 کو بین الاقوامی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لی تھی۔ تاہم وہ اب بھی انڈین پریمیئر لیگ (IPL) میں چنئی سپر کنگز (CSK) کی جانب سے کھیلتے ہیں۔ کرکٹ کے علاوہ دھونی کا بھارتی فوج سے بھی خاص تعلق ہے۔ نومبر 2011 میں کھیلوں کی دنیا میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں بھارتی فوج نے انہیں پیراشوٹ رجمنٹ میں لیفٹیننٹ کرنل کی اعزازی رینک دی تھی۔دھونی نے اس اعزاز کو صرف ایک رسمی عہدے تک محدود نہیں رکھا۔ 2019 کے کرکٹ ورلڈ کپ کے بعد انہوں نے تقریباً دو ماہ کا وقفہ لیا اور جموں و کشمیر میں وکٹر فورس کے ساتھ تقریباً 15 دن تک ڈیوٹی انجام دی۔ اس دوران انہوں نے فوجی جوانوں کے ساتھ گارڈ ڈیوٹی، گشت اور مختلف آؤٹ پوسٹس پر تعیناتی جیسی ذمہ داریاں بھی نبھائیں۔
دھونی بیان کیوں نہیں دے سکتے؟
مہندر سنگھ دھونی عام طور پر طلبہ کے احتجاج یا سیاسی تنازعات پر عوامی بیان دینے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کی ایک اہم وجہ بھارتی فوج میں ان کی اعزازی حیثیت بھی بتائی جاتی ہے۔ انہیں بھارتی فوج کی پیراشوٹ رجمنٹ میں لیفٹیننٹ کرنل کی اعزازی رینک حاصل ہے اور اس حیثیت سے وابستہ بعض ضابطوں کی پابندی کرنا ہوتی ہے۔آرمی رولز، 1954 کے تحت فوج سے وابستہ اہلکار سیاسی سرگرمیوں کا حصہ نہیں بن سکتے۔ وہ کسی سیاسی احتجاج یا تحریک میں شرکت نہیں کر سکتے اور نہ ہی کسی سیاسی جماعت کی کھل کر حمایت کر سکتے ہیں۔ ان ضوابط کے مطابق، سرکاری اجازت کے بغیر فوج سے وابستہ کوئی اہلکار میڈیا، عوامی پلیٹ فارم یا کسی دوسرے ذریعے سے ایسا بیان نہیں دے سکتا جسے سیاسی نوعیت کا سمجھا جائے یا جس میں حکومتی پالیسیوں پر تبصرہ یا تنقید ہو۔
دھونی پر یہ اصول اس لیے بھی لاگو ہوتے ہیں کیونکہ وہ ٹیریٹوریل آرمی (Territorial Army) میں لیفٹیننٹ کرنل کی اعزازی رینک رکھتے ہیں۔ فوج کی روایت بھی یہی ہے کہ وردی سے وابستہ افسران سیاسی طور پر غیر جانب دار رہیں، تاکہ بھارتی فوج کی غیر جانب دار اور پیشہ ورانہ شناخت برقرار رہے۔اسی وجہ سے جھارکھنڈ میں طلبہ کے جاری احتجاج پر دھونی کی خاموشی کو محض بے رخی کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا۔ ان کی فوجی وابستگی اور اس سے متعلق ضوابط بھی عوامی بیان دینے کی راہ میں ایک اہم وجہ ہو سکتے ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82





