
ہلکہ میگزین کے سابق ایڈیٹرترون تیج پال کوآبروریزی معاملے بامبے ہائی کورٹ نے 10 سال کی سزا سنائی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے گوا کی نچلی عدالت کے فیصلے کوپلٹتے ہوئے انہیں قصوروارقراردیا۔ اس فیصلے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ یقینی طورپرسپریم کورٹ جائیں گے۔ ترون تیج پال جنسی استحصال معاملے میں گوا پولیس کی جانچ افسرسنیتا ساونت نے کہا کہ انہیں 10 سال کی قید کی سزا اورپانچ لاکھ روپئے کے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ انہیں سرینڈرکرنے کے لئے دوہفتے کا وقت دیا گیا ہے۔
ترون تیج پال نے کیا کہا؟
ترون تیج پال نے کہا، ’’سیاسی بدلے کے جذبے اور’تہلکہ’ کے کام کی وجہ سے میرے پیچھے پڑے ہیں۔ ہم نے ٹرائل کورٹ میں 7.5 سال تک کیس لڑا اوربری ہوگیا۔ جولوگ ان کے ساتھ ہیں، وہ بری ہوجاتے ہیں، لیکن وہ ان کے پیچھے پڑتے ہیں، جنہوں نے ان کے خلاف لکھا ہے۔‘‘
مرخالد اورشرجیل امام کا بھی آیا سامنے
انہوں نے کہا-’’عمرخالد اورشرجیل امام کئی سالوں سے جیل میں ہیں۔ ’تہلکہ‘ کی رپورٹنگ سے شاید انہیں کچھ سیاسی نقصان ہوا ہویا ان کے ذاتی مفاد کوچوٹ پہنچی ہو۔ وہ گزشتہ 13 سالوں سے بدلے کے جذبہ سے میرے پیچھے پڑے ہیں مجھے عدلیہ پرمکمل بھروسہ ہے کہ ایسے جج ہوں گے، جو سچ دیکھیں گے۔ ہم ثبوت سب کے سامنے رکھیں گے۔‘‘ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ یہ معاملہ تقریباً 13 سال پرانا ہے۔ اس دوران ملزم کے خلاف کسی دیگرطرح کے استحصال کا الزام سامنے نہیں آیا اوردونوں فریق اپنی اپنی زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں۔
فیصلے کے وقت عدالت میں موجود تھے ترون تیج پال
عدالت کی طرف سے فیصلہ سنائے جاتے وقت ترون تیج پال بھی عدالت میں موجود تھے۔ کیونکہ بینچ نے فیصلے کے لئے معاملہ محفوظ رکھتے وقت انہیں فیصلہ سنائے جانے کے دوران عدالت میں موجود رہنے کا حکم دیا تھا۔ ہائی کورٹ کی بینچ نے ریاست کی سی آئی ڈی کی طرف سے داخل اپیل پرفیصلہ سنایا، جس کی نمائندگی سالسٹر جنرل تشار مہتا اور گوا کے ایڈوکیٹ جنرل دیوی داس پنگم نے کی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






