
نئی دہلی : اتر پردیش حکومت نے منگل کو اسمبلی کے مانسون اجلاس کے دوسرے دن 59,019.54 کروڑ روپے کا ضمنی بجٹ پیش کیا۔ وزیر خزانہ و پارلیمانی امور سریش کھنہ نے ایوان میں بجٹ پیش کرتے ہوئے توانائی، صنعتی ترقی، صحت، زراعت اور سماجی بہبود سمیت کئی اہم شعبوں کے لیے اضافی مالی انتظامات کا اعلان کیا۔بجٹ پیش کیے جانے کے دوران سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے اراکین اسمبلی نے مختلف مسائل پر شدید احتجاج کیا، جبکہ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ارکان نے بھی نعروں کے ذریعے اس کا جواب دیا۔ ایوان میں کافی دیر تک ہنگامہ آرائی کا ماحول برقرار رہا۔
وزیر خزانہ کی جانب سے پیش کیے گئے ضمنی بجٹ میں توانائی کے شعبے کے لیے 4,722 کروڑ روپے جبکہ محکمہ سماجی بہبود کے لیے 1,655 کروڑ روپے کے اضافی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ ریاست میں بنیادی ڈھانچے کی توسیع، صنعتی سرمایہ کاری، صحت کی سہولیات کو مضبوط بنانے اور زرعی شعبے کی ترقی کو فروغ دینے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔زرعی اور اس سے وابستہ شعبوں کے لیے بھی نمایاں مالی انتظامات کیے گئے ہیں۔ محکمہ زراعت کو ریونیو مد میں 132.38 کروڑ روپے اور سرمایہ جاتی مد میں 159 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ اسی طرح محکمہ باغبانی و فوڈ پروسیسنگ کے لیے 244.80 کروڑ روپے سے زائد، محکمہ مویشی پروری کے لیے تقریباً 70 کروڑ روپے جبکہ دودھ کی ترقی، ماہی پروری، اراضی ترقی اور آبی وسائل کے شعبوں کے لیے بھی اضافی بجٹ مختص کیا گیا ہے۔صحت کے شعبے میں ایلوپیتھک طبی خدمات کو سب سے زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔ اس مقصد کے لیے ریونیو مد میں 1,100 کروڑ روپے اور سرمایہ جاتی مد میں 96 کروڑ روپے کا انتظام کیا گیا ہے۔ خاندانی بہبود کے لیے 704.25 کروڑ روپے، عوامی صحت کے لیے 60.65 کروڑ روپے جبکہ آیورویدک اور یونانی طبی خدمات کے فروغ کے لیے بھی اضافی فنڈز فراہم کیے گئے ہیں۔
صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کی توسیع کے لیے حکومت نے خصوصی توجہ دی ہے۔ بھاری اور درمیانی صنعتوں کے محکمے کے لیے سرمایہ جاتی مد میں 20,905.88 کروڑ روپے جبکہ ریونیو مد میں 130.30 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہینڈلوم، ٹیکسٹائل، پرنٹنگ اور تحریری مواد سے متعلق ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی اضافی بجٹ رکھا گیا ہے۔ادھر بجٹ پیش ہونے کے دوران اسمبلی میں اپوزیشن کا احتجاج جاری رہا۔ سماجوادی پارٹی کے ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔ ایس پی ارکان نے “چندا چور کہاں ملیں گے، بی جے پی کے دفتر میں” کے نعرے لگائے، جس کے جواب میں بی جے پی ارکان نے “ٹوٹی چور کہاں ملیں گے، ایس پی کے دفتر میں” کے نعرے بلند کیے۔وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ بھی اس موقع پر ایوان میں موجود تھے۔ ایس پی کے رکن اسمبلی اتل پردھان نے ضمنی بجٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ حکومت پہلے یہ واضح کرے کہ پہلے منظور کیے گئے بجٹ کا کتنا حصہ خرچ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف نیا بجٹ پیش کرنے سے عوامی مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ حکومت کو اپنے سابقہ وعدوں اور دعوؤں کا بھی حساب دینا چاہیے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






