
پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں کئی اہم بلوں پر بحث ہوئی، کچھ منظور ہو چکے ہیں جبکہ کچھ ابھی زیر غور ہیں۔ انہی میں غیر ملکی عطیات (ضابطہ) ترمیمی بل 2026 (FCRA Amendment Bill 2026) بھی شامل ہے، جس کا قانونی مسودہ اس وقت خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ بظاہر یہ ایک عام ترمیمی بل دکھائی دیتا ہے، لیکن اس کے پس منظر میں پانچ دہائیوں پر محیط سیاست، بین الاقوامی سفارت کاری، قومی سلامتی اور اربوں روپے کی غیر ملکی فنڈنگ کی ایک ایسی کہانی موجود ہے جس نے بارہا بھارتی جمہوریت میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ایک طرف حکومت اسے ملک کی خودمختاری اور قومی سلامتی کا محافظ قرار دے رہی ہے، تو دوسری جانب سماجی تنظیموں اور این جی اوز میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر یہ قانون کیا ہے اور 1976 میں وجود میں آنے والا یہ ضابطہ 2026 میں ایک مرتبہ پھر قومی سطح کی بڑی بحث کیوں بن گیا ہے؟
ایمرجنسی کے دور میں FCRA کا آغاز
اس قانون کی بنیاد آج سے تقریباً پچاس برس پہلے رکھی گئی تھی۔ 1970 کی دہائی میں سرد جنگ اپنے عروج پر تھی اور بھارتی سیاست میں غیر ملکی طاقتوں اور ان کی مالی مداخلت کے خدشات بڑھ رہے تھے۔ انہی حالات میں 1976 میں اس وقت کی اندرا گاندھی حکومت نے فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) ایکٹ (FCRA) نافذ کیا، جس کا مقصد انتخابات، سیاست، عدلیہ اور میڈیا کو بیرونی اثر و رسوخ اور مالی دباؤ سے محفوظ رکھنا تھا۔
بعد ازاں 2010 میں منموہن سنگھ حکومت نے پرانے قانون کی جگہ نیا FCRA 2010 نافذ کیا، جس میں پانچ سالہ لائسنس اور اس کی تجدید کا نظام متعارف کرایا گیا۔ 2020 میں مودی حکومت نے قانون مزید سخت کرتے ہوئے این جی اوز کے درمیان فنڈ منتقل کرنے (Sub-granting) پر پابندی عائد کر دی، انتظامی اخراجات کی حد 50 فیصد سے کم کر کے 20 فیصد کر دی اور آدھار کو لازمی قرار دیا۔
FCRA کا 50 سالہ سفر
1976: ایمرجنسی کے دوران غیر ملکی چندے پر نگرانی کے لیے پہلا قانون نافذ ہوا۔
1984: تمام این جی اوز کی رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی اور آڈٹ کے اختیارات میں اضافہ ہوا۔
2010: نیا قانون نافذ ہوا، پانچ سال بعد لائسنس کی تجدید لازمی بنائی گئی۔
2020: فنڈ ٹرانسفر پر پابندی، انتظامی اخراجات کی حد 20 فیصد اور آدھار لازمی قرار دیا گیا۔
2026: منسوخ شدہ لائسنس رکھنے والی این جی اوز کی جائیدادوں کی تحویل اور انتظام سے متعلق نئی شقیں پیش کی گئیں۔
2026 کی نئی ترامیم اور جائیدادوں کا تنازع
نئے بل کا سب سے زیادہ زیر بحث پہلو این جی اوز کی جائیدادیں ہیں۔ اگر کسی ادارے کا ایف سی آر اے لائسنس منسوخ ہو جائے تو غیر ملکی فنڈ سے تعمیر شدہ اسکولوں، اسپتالوں اور کمیونٹی مراکز جیسی جائیدادوں کا کیا ہوگا؟ مجوزہ بل کے مطابق حکومت ایک نامزد اتھارٹی (Designated Authority) قائم کرے گی، جو ایسی جائیدادوں کی نگرانی اور عارضی تحویل سنبھالے گی۔ اسی تجویز پر شمال مشرقی ریاستوں سمیت ملک بھر کے سماجی اداروں نے خدشات کا اظہار کیا ہے اور کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے ان کی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
FCRA بل 2026 کی اہم شقیں
لائسنس منسوخ یا ختم ہونے پر غیر ملکی فنڈ سے حاصل کی گئی جائیداد عارضی طور پر نامزد اتھارٹی کے سپرد ہوگی۔
تکنیکی خلاف ورزیوں پر زیادہ سے زیادہ قید کی سزا پانچ سال سے کم کر کے ایک سال کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
مقررہ وقت پر تجدید نہ کرانے کی صورت میں ایف سی آر اے لائسنس خود بخود ختم تصور ہوگا۔
مذہبی تبلیغ یا مذہب تبدیلی (کنورژن) کے مقصد سے آنے والی غیر ملکی فنڈنگ کو مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
کن شعبوں پر پابندی ہوگی؟
قانون کے مطابق انتخابی امیدوار، ارکان پارلیمنٹ، ارکان اسمبلی، جج، سرکاری ملازمین اور صحافی غیر ملکی چندہ وصول نہیں کر سکتے۔ اسی طرح مذہب تبدیلی، فسادات بھڑکانے یا سرکاری بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے غیر ملکی فنڈنگ مکمل طور پر غیر قانونی ہوگی۔ تمام غیر ملکی فنڈ صرف نئی دہلی میں اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی نامزد ایف سی آر اے شاخ کے اکاؤنٹ میں ہی وصول کیے جا سکیں گے۔
کیا بھارت اکیلا ہے؟
حکومت کا کہنا ہے کہ بھارت اس معاملے میں اکیلا نہیں۔ امریکہ میں فارن ایجنٹس رجسٹریشن ایکٹ (FARA) 1938 سے نافذ ہے اور حالیہ برسوں میں اسے مزید سخت کیا گیا ہے۔ برطانیہ نے بھی 2025 میں نیا فارن انفلوئنس رجسٹریشن اسکیم (FIRS) نافذ کیا، جبکہ کینیڈا نے 2024 میں غیر ملکی مداخلت روکنے کے لیے نیا قانون منظور کیا۔
سلامتی اور اعتماد کے درمیان توازن
حکومت کا مؤقف ہے کہ FCRA ترمیمی بل 2026 کا مقصد سماجی خدمات انجام دینے والی تنظیموں کو روکنا نہیں بلکہ غیر ملکی فنڈنگ کے غلط استعمال، قومی سلامتی کے خلاف سرگرمیوں، انتخابی عمل میں مداخلت اور غیر قانونی مذہب تبدیلی جیسے معاملات پر مؤثر نگرانی قائم کرنا ہے۔ دوسری جانب سماجی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نئے اختیارات سے ان کی آزادی متاثر ہو سکتی ہے۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ پارلیمنٹ اس بل کو کس شکل میں منظور کرتی ہے اور ملک قومی سلامتی، خودمختاری اور سماجی خدمات کے درمیان کس حد تک متوازن راستہ اختیار کرتا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






