
اترپردیش کے غازی پورسے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری کوالہ آباد ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ عدالت نے اسلحہ لائسنس سے متعلق درج ایف آئی آرپرسماعت کرتے ہوئے ان کی گرفتاری پرعبوری روک لگا دی ہے۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 10 اگست کوہوگی۔
ایف آئی آر منسوخ کرنے کی درخواست
غازی پورمیں تقریباً دوہفتے قبل افضال انصاری سمیت متعدد افراد کے خلاف اسلحہ لائسنس کے مبینہ غلط استعمال، متعلقہ سرکاری ریکارڈ (فائلیں) غائب کرانے اورفرضی پتے پراسلحہ لائسنس حاصل کرنے کے الزامات میں ایف آئی آردرج کی گئی تھی۔ یہ مقدمہ غازی پورکوتوالی تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ ایف آئی آرکے بعد افضال انصاری نے الہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائرکرتے ہوئے مقدمہ منسوخ کرنے کی درخواست کی۔ سماعت کے دوران ان کے وکیل اپیندراپادھیائے نے عدالت کے سامنے مؤقف پیش کیا، جس کے بعد عدالت نے افضال انصاری اوردیگرعرضی گزاروں کی گرفتاری پرعبوری روک لگا دی۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ تفتیش اوردیگرقانونی کارروائی جاری رہے گی اوراس پرکوئی پابندی نہیں لگائی گئی ہے۔
ریاستی حکومت سے جواب طلب
جسٹس سدھارتھ ورما اورجسٹس اچل سچ دیوپرمشتمل ڈویژن بنچ نے اسلحہ لائسنس کی اصل فائلیں غائب ہونے کے معاملے میں ریاستی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔ سرکاری وکیل نے جواب داخل کرنے کے لئے مہلت مانگی، جس کے بعد عدالت نے اگلی سماعت 10 اگست مقررکردی۔ اس مقدمے میں ریاستی حکومت، پرنسپل سکریٹری داخلہ، ایس پی غازی پور، ایس ایچ او کوتوالی غازی پوراورکوتوالی تھانے کے انچارج انسپکٹرپرمود کمارسنگھ کوفریق بنایا گیا ہے۔
کن لوگوں پر الزامات ہیں؟
حال ہی میں اترپردیش پولیس نے سابق رکن اسمبلی مختارانصاری کے گروپ اوران کے اہل خانہ کوجاری کئے گئے اسلحہ لائسنسوں کی جانچ کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا تھا۔ تحقیقات کی بنیاد پرغازی پورکے رکن پارلیمنٹ افضال انصاری، مختارانصاری کی اہلیہ افشاں بیگم، گروپ کے بعض مبینہ ساتھیوں، اُس وقت کے اسلحہ کلرکوں اوردیگرمتعلقہ افسران کے خلاف مجموعی طورپرپانچ مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ تاہم فی الحال عدالت نے تمام ملزمان کوعبوری راحت فراہم کرتے ہوئے گرفتاری پرروک لگا دی ہے۔
پولیس کا دعویٰ
پولیس کے مطابق، تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ کئی اسلحہ لائسنسوں کی اصل فائلیں اورہتھیاروں کی خرید وفروخت سے متعلق اہم سرکاری ریکارڈ ضلع مجسٹریٹ دفتر، غازی پورسے غائب ہیں۔ پولیس کا الزام ہے کہ اُس وقت کے اسلحہ کلرکوں اوربعض سرکاری افسران کی ملی بھگت سے یہ ریکارڈ غائب کرایا گیا تاکہ ہتھیاروں کی اصل صورت حال چھپائی جا سکے اوران کے ممکنہ غلط استعمال کا سراغ نہ لگ سکے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82






