
نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے پیر کو 37 روزہ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) احتجاج ختم کرنے کے لیے حکومت اور مظاہرین کے درمیان طے پانے والی شرائط، طلبہ کے خلاف درج پولیس مقدمات اور حکومت کی جانب سے تسلیم کیے گئے مطالبات کی تفصیلات عام کرنے کا مطالبہ کیا۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا کہ اتنی بڑی تحریک حکومت کی کوششوں سے ختم ہوئی یا حکومت نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کرکے پسپائی اختیار کی؟ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے طلبہ کے مطالبات تسلیم کیے ہیں تو ملک کو بتایا جانا چاہیے کہ کن معاملات پر حکومت نے اتفاق کیا۔ ملک کو یہ جاننے کا حق ہے کہ حکومت نے کن مخصوص مطالبات کو تسلیم کیا۔
’’پولیس طلبہ کے خلاف درج کررہی ہے مقدمات‘‘
اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کی یقین دہانی کے باوجود پولیس طلبہ کے خلاف مقدمات درج کر رہی ہے اور سوشل میڈیا پوسٹ کرنے پر ان کے گھروں تک پہنچ رہی ہے۔ انہوں نے کہا ’’آپ نے بچوں کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا جائے گا، لیکن مقدمات درج کیے جا رہے ہیں۔ اگر وہ سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں تو پولیس ان کے گھروں تک پہنچ رہی ہے، تو پھر یہ آپ کیسی یقین دہانی تھی؟‘‘ اپوزیشن نے NEET امتحان کے بعد طلبہ کی خودکشیوں کو بنیادی مسئلہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ قانون سازی کے باوجود حکومت اصل جواب دہی کے مسئلے سے گریز کر رہی ہے۔
’’کیا آپ بہار میں اے کے-47 چلائیں گے؟‘‘
سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام گوپال یادو نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک بھر میں پُرامن طلبہ مظاہرین پر پولیس کارروائی اور لاٹھی چارج کے معاملے پر پارلیمنٹ میں باضابطہ بیان دیں۔ رام گوپال یادو نے کہا کہ طلبہ نے کوئی تشدد نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ کسی منظم طریقے سے آئے تھے۔ ملک بھر سے نوجوان جمع ہوئے تھے اور کہیں بھی کسی قسم کی زیادتی یا بدسلوکی نہیں ہوئی۔ انہوں نے سوال کیا ’’کیا آپ بہار میں اے کے-47 چلائیں گے؟‘‘ انہوں نے کہا کہ طلبہ جنتر منتر پر بیٹھے تھے اور وہاں کسی قسم کا تنازع نہیں تھا۔ یہ پیش رفت مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور مرکز کی جانب سے پیر کو پبلک ایگزامینیشنز (پریوینشن آف ان فیئر مینز) ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔ اس بل کا مقصد ملک میں امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے واقعات پر قابو پانا ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) اور سماجی کارکن سونم وانگچک کی قیادت میں 37 روزہ ملک گیر تحریک کے بعد مرکزی حکومت نے عوامی غم و غصے کو کم کرنے کے لیے کئی اہم اقدامات کیے۔ اس دوران مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دیا، حکومت اور مظاہرین کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کے تین دور ہوئے اور امتحانی پرچوں کے لیک ہونے والے گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔ پیش رفت کے بعد CJP نے جنتر منتر پر جاری دھرنا ختم کردیا۔ تاہم، اس معاہدے اور حکومت کی یقین دہانیوں کو لے کر پارلیمنٹ میں ایک نئی سیاسی کشمکش شروع ہوگئی ہے۔ اپوزیشن خاص طور پر سماجوادی پارٹی، حکومت سے مطالبہ کر رہی ہے کہ وہ واضح کرے کہ طلبہ سے کیا یقین دہانیاں کی گئیں، احتجاج کرنے والے طلبہ کو پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر ہراساں کیے جانے کا سلسلہ کیوں جاری ہے اور طلبہ کی خودکشیوں کے معاملے پر حکومت پارلیمنٹ میں باضابطہ جواب دینے سے کیوں گریز کر رہی ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







