
نئی دہلی :پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کا پہلا ہفتہ مسلسل ہنگامہ آرائی کی وجہ سے تقریباً مکمل طور پر متاثر رہا۔ پورے ہفتے کے دوران نہ لوک سبھا اور نہ ہی راجیہ سبھا میں ایک بھی دن سوالیہ وقفہ (کوئسچن آور) یا زیرو آور کی کارروائی چل سکی۔ جمعہ کو بھی دونوں ایوانوں میں یہی صورتحال برقرار رہی اور اپوزیشن کے احتجاج کے باعث پارلیمانی کارروائی بار بار ملتوی کرنا پڑی۔اپوزیشن نے ایک بار پھر واضح کیا کہ جب تک مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان استعفیٰ نہیں دیتے، وہ ایوان میں کسی بھی موضوع پر بحث میں حصہ نہیں لے گی۔ نیٹ پیپر لیک معاملے کو لے کر اپوزیشن مسلسل وزیر تعلیم کی برطرفی کا مطالبہ کر رہی ہے۔جمعہ کو اجلاس شروع ہوتے ہی لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں میں اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی، جس کے باعث کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ بعد ازاں لوک سبھا کی کارروائی پیر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی، جبکہ راجیہ سبھا میں بھی ہنگامہ آرائی کے باعث معمول کی کارروائی ممکن نہ ہو سکی۔
ایوان کے باہر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے حق میں احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف نعرے لگائے۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے بھی مطالبہ کیا کہ وزیر تعلیم استعفیٰ دیں، اس کے بعد ہی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بامعنی بحث ہو سکتی ہے۔راجیہ سبھا میں کارروائی شروع ہونے کے کچھ دیر بعد قائد حزب اختلاف ملکارجن کھڑگے جیسے ہی اپنی بات رکھنے کے لیے کھڑے ہوئے، حکمراں اتحاد اور اپوزیشن کے درمیان شور و غل بڑھ گیا۔ کھڑگے جنتر منتر پر احتجاج کرنے والے طلبہ اور ان پر ہوئی پولیس کارروائی کا معاملہ اٹھانا چاہتے تھے۔ انہوں نے وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ حکومت کو اس معاملے پر ایوان میں باضابطہ بیان دینا چاہیے۔
ہنگامے کے باعث راجیہ سبھا کی کارروائی پہلے دوپہر 12 بجے تک ملتوی کر دی گئی۔ دوبارہ اجلاس شروع ہونے پر کھڑگے نے ایک بار پھر وزیر تعلیم کے استعفے اور حکومت کی وضاحت کا مطالبہ کیا، تاہم اپوزیشن اور حکمراں جماعت کے ارکان کے درمیان دوبارہ شور شرابا شروع ہو گیا، جس کے بعد ایوان کی کارروائی ایک مرتبہ پھر ملتوی کر دی گئی۔ادھر لوک سبھا میں بھی اجلاس شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر ایوان کے وسط میں آ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کرنے لگے، جس کی وجہ سے اسپیکر معمول کی کارروائی نہیں چلا سکے۔ مسلسل رخنہ اندازی کے باعث لوک سبھا کی کارروائی بھی ملتوی کرنا پڑی۔اس طرح مانسون اجلاس کے پہلے ہفتے میں مسلسل احتجاج اور سیاسی تعطل کے باعث سوالیہ وقفہ، زیرو آور اور دیگر قانون سازی سے متعلق اہم کام مکمل طور پر متاثر رہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ٹکراؤ میں کسی بھی قسم کی پیش رفت سامنے نہیں آ سکی۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







