
نئی دہلی: مرکزی حکومت باربارکہہ رہی ہے کہ وہ مظاہرین سے بات چیت کے لئے تیارہے۔ اسی درمیان ذرائع کے حوالے سے ایک بڑی خبرسامنے آئی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ سی جے پی کے رہنماؤں نے مرکزی وزیرجے پی نڈا کے ساتھ مذاکرات سے انکارکردیا ہے۔ حکومت اس معاملے کوجلد ازجلد حل کرنا چاہتی ہے۔ بدھ کے روزسی جے پی کی شرط کے باوجود حکومت نے کہا تھا کہ تنظیم جہاں چاہے، حکومت وہاں اس سے ملاقات کے لئے تیارہے۔
مرکزی وزیرگجیندرسنگھ شیخاوت نے کہا کہ وہ نوجوانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ کچھ لوگ ان کے جذبات کواستعمال کرکے تحریک کوبھڑکانے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نیٹ معاملے پربحث چاہتی ہے اور اس کے لئے تیاربھی ہے، لیکن اپوزیشن بحث سے بچ رہی ہے۔ ان کے مطابق ملک اپوزیشن کے رویے کوسمجھ رہا ہے۔ مرکزی وزیرداخلہ امت شاہ نے بھی کہا ہے کہ حکومت پارلیمنٹ میں اس معاملے پربحث کرانا چاہتی ہے۔
سی جے پی نے بات چیت سے کردیا انکار
دوسری جانب، جے پی نڈا نے ایک روزقبل سونم وانگچک سے ملاقات کی تھی، جوتقریباً 45 منٹ تک جاری رہی۔ اس کے بعد نڈا نے کہا تھا کہ سی جے پی کے لیڈران جب بھی بات چیت کے لیے وقت چاہیں، حکومت ان سے ملنے کے لئے تیارہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام مسائل اورپہلوؤں پربات چیت کرے گی اوربات چیت کے ذریعہ حل نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔ آپ کو بتا دیں کہ بدھ (22 جولائی) کوسی جے پی کے ترجمان سوربھ داس نے کہا تھا کہ تنظیم (سنگٹھن) حکومت سے بات چیت کے لئے تیارہے، تاہم اس کے لیے کچھ شرائط رکھی گئی تھیں۔
حکومت کا دعویٰ- ہم ہروقت بات چیت کے لئے تیار
حکومت کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اورسی جے پی جب چاہے بات چیت کرسکتی ہے۔ لیکن ایک دن بعد صورت حال بدلتی نظرآرہی ہے۔ ذرائع کے مطابق، آج سی جے پی لیڈران نے بات چیت سے انکارکر دیا ہے۔ دوسری جانب آج صبح ہی وزیراعظم نریندرمودی نے اعلان کیا کہ نیٹ پیپرلیک کے قصورواروں کو جلد سزا دلانے کے لیے حکومت فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کرے گی۔ وزیراعظم کے اعلان کے باوجود سی جے پی کا دھرنا اوراحتجاج اب تک جاری ہے۔







