
یک وقت تھا جب انسٹاگرام ریلز یا پوڈکاسٹ بنانے کے لیے جدید اسٹوڈیو، لاکھوں روپے کی لائٹنگ اور روانی سے انگریزی بولنا کامیابی کی شرط سمجھا جاتا تھا۔ انٹرنیٹ کی دنیا پر جنوبی دہلی اور جنوبی ممبئی کے ایک مخصوص شہری طبقے کا غلبہ تھا، جو مہنگے مائیکروفون کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کو ہی معیاری کانٹینٹ تصور کرتا تھا۔ مگر اب حالات بدل چکے ہیں اور یہ طے کرنے والی پرانی سوچ ٹوٹ رہی ہے کہ کیا ’کول‘ ہے اور کیا نہیں۔ اتر پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والے وجے کمار، جو لندن کے ومبلڈن تک پہنچے، دیسی انداز میں سقراط اور شیکسپیئر جیسے فلسفیوں اور ادیبوں کو آسان زبان میں سمجھانے والے النکار مشرا اور گھریلو کام کرتے ہوئے سماجی موضوعات پر بات کرنے والی پجارنی پردھان جیسے کریئیٹرز نے ثابت کر دیا ہے کہ اب انٹرنیٹ کا رخ بڑے شہروں کے بجائے چھوٹے قصبے طے کر رہے ہیں۔
دیسی صلاحیت نے مہنگے اسٹوڈیوز کو پیچھے چھوڑ دیا
کافی عرصے تک ڈیجیٹل دنیا میں انگریزی بولنے والے شہری چہروں کا غلبہ رہا، جو کانٹینٹ کریئیشن کو اپنی جاگیر سمجھتے تھے۔ وہ غیر ملکی سیاحت، مہنگے برانڈز اور پرتعیش طرزِ زندگی دکھا کر ناظرین کو متاثر کرتے تھے۔ لیکن جیسے ہی بھارت کے دیہی علاقوں میں اسمارٹ فون اور سستا انٹرنیٹ عام ہوا، یہ تصور تیزی سے بدلنے لگا۔ آج کے ناظرین بناوٹ کے بجائے سادگی، دیسی پن اور حقیقت سے جڑے ہوئے مواد کو زیادہ پسند کر رہے ہیں۔ چھوٹے شہروں کے کریئیٹرز نے مہنگے کیمروں اور اسٹوڈیوز کے بجائے اپنی انفرادیت، مقامی شناخت اور تخلیقی صلاحیت کو اپنی طاقت بنایا، جس کے باعث وہ ویوز اور انگیجمنٹ کے معاملے میں بڑے شہری کریئیٹرز کو سخت ٹکر دے رہے ہیں۔
وجے کمار: گاؤں سے ومبلڈن تک کا سفر
حال ہی میں وجے کمار، جو سوشل میڈیا پر “وجے تھری گائے” کے نام سے جانے جاتے ہیں، کی ومبلڈن ٹینس چیمپئن شپ سے بنائی گئی ریلز نے خوب توجہ حاصل کی۔ اتر پردیش کے ایک عام گاؤں سے تعلق رکھنے والے وجے مختصر، منفرد اور مؤثر ویڈیوز بنانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔بغیر کسی بڑے اسٹوڈیو یا مہنگی سہولیات کے انہوں نے ایسا منفرد کانٹینٹ تیار کیا کہ آج ومبلڈن جیسے عالمی ایونٹ میں بھی انہیں خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ ان کی کامیابی نے چھوٹے شہروں کے لاکھوں نوجوانوں کو یہ یقین دلایا ہے کہ صلاحیت اور محنت کے ذریعے عالمی سطح پر بھی پہچان بنائی جا سکتی ہے۔
النکار مشرا: فلسفے اور ادب کو عام فہم بنانے والے کریئیٹر
النکار مشرا کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ فلسفہ اور ہندی ادب جیسے سنجیدہ موضوعات کو نہایت آسان اور دلچسپ انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کی ویڈیوز میں سقراط، شیکسپیئر، پاؤلو کوئیلو اور دھرم ویر بھارتی جیسے نام عام فہم انداز میں سامنے آتے ہیں، جس کی وجہ سے لاکھوں نوجوان ان کے کانٹینٹ سے جڑ رہے ہیں۔آج کئی بڑی کمپنیاں اور برانڈز ان کے ساتھ کام کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس مقامی ثقافت، زبان اور سماجی شعور کی وہ گہرائی موجود ہے جو صرف ظاہری چمک دمک پر مبنی کانٹینٹ میں نظر نہیں آتی۔یہ بدلتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ اب انٹرنیٹ پر کامیابی کے لیے صرف مہنگے وسائل نہیں بلکہ اصل تخلیقی صلاحیت، مقامی شناخت اور ناظرین سے مضبوط تعلق ہی سب سے بڑی طاقت بن چکے ہیں۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







