
نئی دہلی : وزیراعظم نریندر مودی کے انڈونیشیا کے سرکاری دورے کے دوران دفاع، اسٹریٹجک بنیادی ڈھانچے، سمندری تعاون اور اہم معدنیات کی سپلائی چین سے متعلق متعدد اہم پیش رفت متوقع ہے۔ دونوں ممالک دفاعی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ توانائی، تجارت، ڈیجیٹل معیشت اور اسٹریٹجک شعبوں میں باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔سفارتی ذرائع کے مطابق اس دورے کے دوران انڈونیشیا کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کی تیاری میں بھارت کے تعاون پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھارتی انتخابی نظام اور انتخابی انتظامی ماڈل پر عالمی اعتماد کی ایک اہم مثال سمجھی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق “آپریشن سندور” کے دوران بھارت کی میزائل صلاحیتوں کے مؤثر مظاہرے کے بعد انڈونیشیا نے بھارت میں تیار کردہ “استر” فضاء سے فضاء میں مار کرنے والے میزائل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ “استر” ایک مقامی طور پر تیار کردہ بیونڈ وژول رینج ایئر ٹو ایئر میزائل (BVRAAM) ہے، جسے دفاعی تحقیق و ترقی تنظیم (ڈی آر ڈی او) نے بھارتی فضائیہ اور بحریہ کے لیے تیار کیا ہے۔
اس کے علاوہ اطلاعات ہیں کہ انڈونیشیا اپنی برہموس سپرسونک کروز میزائلوں کی تعداد میں بھی اضافہ کرنا چاہتا ہے اور مجوزہ تعاون کے تحت بھارت اضافی برہموس میزائل بیٹریاں فراہم کر سکتا ہے۔ برہموس کو دنیا کی تیز ترین فعال سپرسونک کروز میزائلوں میں شمار کیا جاتا ہے، جو تقریباً میک 2.8 کی رفتار سے پرواز کرتی ہے، بھاری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے اور 290 کلومیٹر سے زیادہ فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنا سکتی ہے۔ یہ “فائر اینڈ فارگیٹ” اصول پر کام کرتی ہے اور اسے جنگی جہاز، آبدوز، ایس یو-30 ایم کے آئی لڑاکا طیارے اور زمینی موبائل لانچر سمیت مختلف پلیٹ فارمز سے داغا جا سکتا ہے۔دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان سبانگ بندرگاہ کے مشترکہ ترقیاتی منصوبے پر بھی پیش رفت متوقع ہے۔ ملقا آبنائے کے قریب واقع یہ گہرے پانی کی بندرگاہ اسٹریٹجک اعتبار سے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔ یہ بندرگاہ بھارت کے گریٹ نکوبار پورٹ منصوبے سے تقریباً 100 میل کے فاصلے پر واقع ہے، جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان بحری تعاون میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ سبانگ بندرگاہ انڈونیشیا کے صوبہ آچے میں ویہ جزیرے پر واقع ہے اور بھارت کے اندرا پوائنٹ سے تقریباً 104 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اہم معدنیات کی سپلائی چین کو مضبوط بنانے کے لیے بھارت انڈونیشیا میں اسٹیل، نکل اور ریئر ارتھ پرمننٹ میگنیٹس کی تیاری کے شعبے میں سرمایہ کاری پر بھی غور کر رہا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور اسٹریٹجک تعاون کو مزید فروغ ملے گا۔وزیراعظم مودی نے اپنے دورے کے دوران انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کے ساتھ دوطرفہ ملاقات بھی کی، جس میں توانائی، تجارت، دفاع، سمندری سلامتی، غذائی تحفظ، ڈیجیٹل معیشت اور اہم معدنیات کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں لیڈروں نے 2018 میں قائم ہونے والی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کے تحت ہونے والی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔انڈونیشیا میں بھارت کے سفیر سندیپ چکرورتی نے بتایا کہ دونوں لیڈر یوگیاکارتا میں واقع تاریخی پرمبانن مندر کمپلیکس کے تحفظ اور بحالی کے منصوبے کے آغاز کا بھی اعلان کر سکتے ہیں، جو دونوں ممالک کے قدیم ثقافتی تعلقات کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم مودی کا جکارتہ میں غیر معمولی سرکاری استقبال کیا گیا، جس کے ساتھ ہی ان کے تین ملکی دورے کے پہلے مرحلے کا آغاز ہوا۔ اس دورے کا مقصد بھارت اور انڈونیشیا کے درمیان اسٹریٹجک، دفاعی، اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا ہے۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







