
دنیا بھر میں لاکھوں جانیں لینے والے کورونا وائرس (COVID-19) کی حقیقت پر پڑا سب سے بڑا اور مضبوط پردہ بالآخر اٹھ گیا ہے۔ امریکہ کی سابق نیشنل انٹیلی جنس چیف تلسی گبارڈ نے اپنے عہدے سے استعفے کے آخری دن ایسا انکشاف کیا ہے جس کی گونج واشنگٹن سے لے کر بیجنگ تک سنائی دے رہی ہے۔ گبارڈ نے مبینہ طور پر خفیہ دستاویزات جاری کرتے ہوئے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے سابق چیف میڈیکل ایڈوائزر ڈاکٹر انتھونی فاؤچی کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔
فاؤچی نے ووہان لیب کو فنڈنگ دی تھی؟
ڈاکٹر فاؤچی وہ شخصیت ہیں جنہوں نے 2020 میں کورونا وبا کے دوران امریکہ کی کووِڈ حکمتِ عملی کی قیادت کی تھی۔ تلسی گبارڈ کی جانب سے جاری کردہ مبینہ انٹیلی جنس دستاویزات کے مطابق فاؤچی نے امریکی ٹیکس دہندگان کے لاکھوں ڈالر خفیہ طور پر چین کے ووہان انسٹی ٹیوٹ آف وائرولوجی (WIV) کو فراہم کیے تھے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کورونا وائرس وہیں سے پھیلا تھا۔ الزام ہے کہ یہ فنڈنگ چمگادڑوں پر کیے جانے والے خطرناک “گین آف فنکشن” (Gain-of-Function) تحقیقی منصوبوں کے لیے دی گئی تھی، جن کے نتیجے میں اس مہلک وائرس نے جنم لیا۔
کانگریس میں حلف اٹھا کر جھوٹ بولنے کا الزام
تلسی گبارڈ نے ڈاکٹر فاؤچی پر براہِ راست اور سنسنی خیز الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2024 میں امریکی کانگریس کے سامنے حلف کے تحت “سفید جھوٹ” بولا تھا۔ گبارڈ کے دفتر کے مطابق فاؤچی نے انٹیلی جنس کمیونٹی کے بعض بدعنوان اہلکاروں کے ساتھ مل کر “لیب لیک تھیوری” اور اس سے متعلق شواہد کو دبانے کی کوشش کی۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے ایک بیانیہ تشکیل دیا گیا کہ وائرس قدرتی طور پر وجود میں آیا، تاکہ مبینہ فنڈنگ اور اس سے جڑے حقائق منظرِ عام پر نہ آ سکیں۔
سچ بولنے والوں کو خاموش کرایا گیا
ان الزامات کا سب سے تشویش ناک پہلو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جن سائنس دانوں یا وہسل بلوورز نے فاؤچی کے مؤقف کو چیلنج کرنے کی کوشش کی، انہیں مبینہ طور پر دباؤ، دھمکیوں اور پیشہ ورانہ نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ تلسی گبارڈ نے اسے امریکی “ڈیپ اسٹیٹ” کی حکمتِ عملی کا حصہ قرار دیا ہے۔
38 سالہ اثر و رسوخ پر سوالات
اپنے شوہر کی کینسر سے جدوجہد کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ کے دوسرے دورِ حکومت میں استعفیٰ دینے والی تلسی گبارڈ نے جاتے جاتے 85 سالہ ڈاکٹر فاؤچی کے لیے نئی مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ تقریباً 38 برس تک امریکی صحت کے ادارے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف الرجی اینڈ انفیکشس ڈیزیزز (NIAID) کی قیادت کرنے والے فاؤچی اب ان الزامات کے باعث شدید بحث اور تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
نوٹ: مذکورہ الزامات تلسی گبارڈ کی جانب سے کیے گئے دعووں پر مبنی ہیں۔ کورونا وائرس کی اصل ابتدا اور ووہان لیب سے اس کے تعلق کے حوالے سے عالمی سطح پر اب بھی مختلف تحقیقات اور آرا موجود ہیں، اور ان دعووں پر حتمی اتفاقِ رائے نہیں پایا جاتا۔
Warning: Trying to access array offset on false in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/momizat_functions.php on line 104
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 66
Warning: Trying to access array offset on null in /home/areomziw/nawaiduggar.com/wp-content/themes/goodnews5/framework/functions/posts_share.php on line 82







