
نئی دہلی: وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے خلیج عمان کے قریب تجارتی جہازوں پر جاری حملوں کے خلاف امریکہ کے ناظم الامور جیسن میکس کو طلب کرکے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ یہ اقدام ایک نئے واقعے کے بعد کیا گیا، جس میں 20 بھارتی عملے کے ارکان پر مشتمل ایک تجارتی جہاز حملے کی زد میں آ گیا۔ اس معاملے پر امریکی مشن کو وزارت خارجہ کی جانب سے دوسری مرتبہ طلب کیا گیا ہے۔ حالیہ کشیدگی کے دوران تین بھارتی جہازرانوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہوئی ہے، جنہیں پہلے لاپتہ قرار دیا گیا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے جب بھارت نے کھلے طور پر امریکی بحریہ کی جانب سے بھارتی ملاحوں والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار دنوں کے دوران امریکی فوج نے عمان کے ساحلی علاقے میں بھارتی عملے کے ارکان کے ساتھ چلنے والے تین غیر ملکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
اس بحری تنازعے کا کب ہوا آغاز؟
بحری تنازع کا آغاز 8 جون کو ہوا، جب امریکی فورسز نے ماری ویکس (Marivex) نامی پلاؤ کے پرچم والے آئل ٹینکر کو غیر فعال کر دیا۔ اس جہاز پر 24 بھارتی ملاح موجود تھے، جنہیں بعد میں بحفاظت نکال لیا گیا۔ اس کے بعد 10 جون کو امریکی حملے میں پالاؤ کے پرچم بردار ایک اور آئل ٹینکر ایم ٹی سیٹے بیلو (MT Settebello) کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں تین بھارتی ملاح ہلاک ہو گئے۔ بین وزارتی بریفنگ کے دوران وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ بھارت اپنے ملاحوں کی فلاح و بہبود اور سلامتی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا: ’’ایم ٹی سیٹے بیلو پر حملے کے بعد ہم نے امریکی حکومت کے سامنے سخت احتجاج درج کرایا۔ امریکی ناظم الامور کو طلب کر کے اپنی گہری تشویش سے آگاہ کیا گیا اور واضح طور پر کہا گیا کہ ایسے حملے فوراً بند ہونے چاہئیں۔‘‘
آبنائے ہرمز میں قوانین کے مطابق آمدورفت کا مطالبہ
رندھیر جیسوال نے زور دیا کہ موجودہ تنازع کا حل صرف بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے امریکہ کو واضح طور پر بتایا ہے کہ: تنازع کے پرامن حل کے لیے مذاکرات ضروری ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق آبنائے ہرمز میں جہازوں کی بلا رکاوٹ آمدورفت یقینی بنائی جائے۔ بھارتی شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق نشانہ بنائے گئے تینوں جہاز بھارتی ملکیت کے نہیں تھے۔ رندھیر جیسوال نے بتایا کہ: دو جہاز پالاؤ (Palau) کے پرچم بردار تھے۔ ایک جہاز گنی بساؤ (Guinea-Bissau) کے پرچم کے تحت رجسٹرڈ تھا۔ البتہ ان جہازوں پر بڑی تعداد میں بھارتی ملاح تعینات تھے۔
امریکی پابندیوں سے متعلق انکشاف
ترجمان نے مزید بتایا کہ ان کارروائیوں کا تعلق امریکی محکمۂ خزانہ کے آفس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) کی پابندیوں سے تھا۔ ان کے مطابق: دو جہاز امریکی پابندیوں کی فہرست میں شامل تھے۔ تیسرے جہاز کو قواعد کی خلاف ورزی کرنے والا قرار دیا گیا تھا۔
باقی عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا
وزارت بندرگاہ، جہاز رانی اور آبی گزرگاہوں کے ایڈیشنل سیکریٹری مکیش منگل نے بتایا کہ تیسرے جہاز جل ویر (Jalveer) سے ملاحوں کے انخلا کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم ٹی سیٹے بیلو کے باقی 25 عملے کے ارکان کو بحفاظت منتقل کر دیا گیا ہے، جن میں: 21 بھارتی، 2 پاکستانی، 1 روسی اور 1 یوکرینی شہری شامل ہیں۔ حکومت نے متوفی بھارتی ملاحوں کے اہل خانہ کے لیے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ مکیش منگل کے مطابق سی مین ویلفیئر فنڈ سوسائٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ ہر متوفی بھارتی ملاح کے خاندان کو 10 لاکھ روپے بطور ایکس گریشیا امداد فراہم کی جائے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خلیجی خطے میں 18 ہزار سے زیادہ بھارتی ملاح خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان میں 13 بھارتی پرچم بردار جہازوں پر 562 ملاح، آبنائے ہرمز کے مغربی حصے میں 329 جبکہ خلیج عمان میں 233 ملاح مختلف جہازوں پر تعینات ہیں۔ بھارت نے ایک بار پھر زور دیا ہے کہ خطے میں کشیدگی کم کی جائے اور عالمی بحری تجارت کے اہم راستوں کو محفوظ بنایا جائے تاکہ ملاحوں اور تجارتی جہازوں کی جان و مال کو خطرات سے بچایا جا سکے۔






