
ممبئی: کامیڈین پرنیت مورے کے ایک لائیو شو میں دیے گئے بیان کے بعد ممبئی کے معروف کے ای ایم اسپتال کی ایم بی بی ایس تیسرے سال کی طالبہ سجل پوار تنازع کی زد میں آ گئی ہیں۔ معاملہ سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلنے کے بعد اسپتال انتظامیہ نے فوری طور پر جانچ کے احکامات جاری کرتے ہوئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
لائیو شو میں کیا کہا گیا؟
اطلاعات کے مطابق یہ تنازع پرنیت مورے کے ایک لائیو شو کے دوران پیدا ہوا، جہاں ناظرین کے درمیان موجود سجل پوار سے میڈیکل کالج کی تعلیم اور اناٹومی کے موضوع پر گفتگو کی گئی۔ اسی دوران انہوں نے مبینہ طور پر ایسا تبصرہ کیا جس نے بعد میں شدید ردعمل کو جنم دیا۔ وائرل ویڈیو میں سجل پوار کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ وہ اور ان کے بعض ساتھی میڈیکل تحقیق اور ڈسیکشن کے لیے عطیہ کیے گئے مردہ جسموں کے نجی اعضا کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑاتے تھے۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد اسپتال کا ردعمل
ویڈیو کے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ شدت اختیار ک[/highlight]ر گیا، جس پر کے ای ایم اسپتال انتظامیہ نے فوری نوٹس لیا۔ اسپتال کے ڈین ڈاکٹر ہریش پاٹھک نے کہا کہ اسٹینڈ اپ شو کے دوران دیے گئے بیان سے پیدا ہونے والے تنازع پر مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس معاملے کی جانچ کے لیے دو رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے، جس میں انڈر گریجویٹ ہاسٹل کی وارڈن اور بایو کیمسٹری شعبے کی سربراہ ڈاکٹر انیتا چالک اور میڈیسن شعبے کی اسسٹنٹ پروفیسر اور سوشل میڈیا مینجمنٹ سے وابستہ ڈاکٹر شردھا مورے کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ کمیٹی وائرل ویڈیو کا جائزہ لے کر اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔
طبی پیشے کی وقار پر سوال
ڈاکٹر ہریش پاٹھک نے مزید کہا کہ طبی پیشے میں عطیہ کیے گئے انسانی اجسام کے ساتھ ہمیشہ احترام کا رویہ اختیار کیا جاتا ہے اور طلبہ کو اس حوالے سے باقاعدہ حلف بھی دلایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے بیانات نہ صرف طبی پیشے کی اخلاقی اقدار کے خلاف ہیں بلکہ اس شعبے کے وقار کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔ اسپتال انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ فی الحال سجل پوار کو معطل نہیں کیا گیا ہے، تاہم معاملے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق کسی بھی تادیبی کارروائی سے قبل جانچ کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کیا جائے گا تاکہ حقائق مکمل طور پر سامنے آنے کے بعد مناسب فیصلہ کیا جا سکے۔





