
ہنگے پٹرول اور ڈیزل کی مار جھیل رہے عام لوگوں کے لیے ایک بڑی راحت کی خبر سامنے آئی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً ایران سے جڑی کشیدگی اور عالمی منڈی میں خام تیل کی بڑھتی قیمتوں کے درمیان بھارتی حکومت نے ایک ایسا اہم فیصلہ کیا ہے جو مستقبل میں صارفین کی جیب پر مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔ حکومت نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے 22 فیصد سے 30 فیصد تک ایتھنول ملا پٹرول (E22 سے E30) پر عائد ایکسائز ڈیوٹی (پیداواری ٹیکس) کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔
ایران بحران اور بھارت کا گرین انرجی منصوبہ
حکومت کے اس فیصلے کے پیچھے توانائی کے شعبے میں خود انحصاری کا بڑا ہدف ہے۔ اس وقت دنیا ایران اور آبنائے ہرمز سے جڑی غیر یقینی صورتحال کے باعث ممکنہ تیل بحران کے خدشات سے دوچار ہے۔ بھارت اپنی ضرورت کا تقریباً 87 فیصد خام تیل درآمد کرتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست ملکی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسی انحصار کو کم کرنے کے لیے حکومت ایتھنول مکس ایندھن کو فروغ دے رہی ہے۔ اس سے نہ صرف درآمدی تیل پر خرچ کم ہوگا بلکہ گنا، مکئی اور دیگر زرعی اجناس سے ایتھنول تیار کرنے والے کسانوں کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ مرکزی وزیرِ پیٹرولیم ہردیپ سنگھ پوری کے مطابق پٹرول میں ایتھنول ملاوٹ کی پالیسی سے بھارت اب تک تقریباً 1.85 لاکھ کروڑ روپے کی بچت کر چکا ہے۔
کیا پٹرول فوراً سستا ہو جائے گا؟
ٹیکس ختم ہونے سے بظاہر قیمتوں میں کمی کی توقع پیدا ہوئی ہے، لیکن فوری طور پر بڑی راحت ملنے کے امکانات محدود ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت ایتھنول کی خریداری لاگت ریفائن شدہ پٹرول کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ، یعنی تقریباً 71.32 روپے فی لیٹر ہے۔ تاہم ایک مثبت اشارہ یہ ہے کہ حال ہی میں متعارف کرایا گیا E85 فیول (85 فیصد ایتھنول ملا پٹرول) موجودہ پٹرول کے مقابلے میں تقریباً 20 روپے فی لیٹر سستا بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ نئی ٹیکس چھوٹ آئل کمپنیوں کو ایتھنول کے زیادہ استعمال کی ترغیب دے گی، جس سے مستقبل میں ایندھن کی قیمتوں میں کمی کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
گاڑیوں کے انجن اور مائلیج پر کیا اثر ہوگا؟
بہت سے صارفین کے ذہن میں یہ سوال موجود ہے کہ ایتھنول ملا پٹرول گاڑیوں کے لیے کتنا محفوظ ہے۔ سوسائٹی آف انڈین آٹوموبائل مینوفیکچررز (SIAM) کے مطابق بعض پرانی گاڑیوں میں مائلیج میں معمولی کمی آ سکتی ہے، تاہم انجن کو نقصان پہنچنے کا خدشہ نہیں ہے۔ البتہ 20 فیصد سے زیادہ ایتھنول والے ایندھن (E22 اور E30) کے مؤثر استعمال کے لیے فلیکس فیول انجن والی گاڑیوں کی ضرورت ہوگی، اور آنے والے برسوں میں بھارت میں ایسی گاڑیوں کا استعمال تیزی سے بڑھنے کی توقع ہے۔
درآمدی تیل پر انحصار کم کرنے کی کوشش
ماہرین کے مطابق ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کا یہ فیصلہ صرف ایندھن کی قیمتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ بھارت کی طویل مدتی توانائی حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ اس اقدام سے درآمدی خام تیل پر انحصار کم ہوگا، زرعی شعبے کو نئی منڈیاں ملیں گی اور دیہی معیشت کو تقویت ملنے کی امید ہے۔ حکومت کا مقصد توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنا اور ملکی وسائل کا فائدہ براہِ راست کسانوں تک پہنچانا ہے۔







