
جب ہم 21ویں صدی کے جدید بھارت اور ’’ای-گورننس‘‘ کی بات کرتے ہیں تو ملک کے دور دراز دیہی علاقوں کی کچھ تصویریں ہمیں رک کر سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ جھارکھنڈ کے ضلع ہزاری باغ سے ایک ایسی ہی حیران کن حقیقت سامنے آئی ہے، جہاں ضلع ہیڈکوارٹر سے دور ٹاٹی جھریا بلاک کی پرٹنگا پنچایت میں واقع ایک ڈاک خانہ آج بھی آزادی کے 78 برس بعد مستقل پکی عمارت سے محروم ہے۔ یہ ڈاک خانہ آج بھی مٹی کی خستہ حال دیواروں اور کھپریل کی کچی چھت کے نیچے اپنی خدمات انجام دے رہا ہے۔ اگرچہ ملک کو آزاد ہوئے سات دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس دور افتادہ علاقے میں وقت جیسے تھم سا گیا ہے۔ محض 10×10 فٹ کے ایک چھوٹے اور تاریک کمرے سے چلنے والا یہ ڈاک خانہ دراصل برطانوی دور سے ہی مقامی لوگوں کی خدمت کر رہا ہے۔
بارش میں بھیگ جاتے ہیں سرکاری دستاویزات
اس ڈاک خانے کی سب سے تکلیف دہ صورتحال برسات کے موسم میں سامنے آتی ہے۔ پرٹنگا برانچ پوسٹ ماسٹر انیل مرمو اور دیگر ملازمین کے مطابق بارش کے دوران کھپریل کی چھت سے مسلسل پانی ٹپکتا رہتا ہے، جس کے باعث کئی مرتبہ پاس بکس، سرکاری رجسٹر اور اہم دستاویزات بھیگ کر خراب ہو چکے ہیں۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ انہیں اپنی روزمرہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ سرکاری ریکارڈ کو پانی سے محفوظ رکھنے کی بھی مسلسل فکر رہتی ہے۔ اس کے باوجود وہ گاؤں گاؤں جا کر مرکزی حکومت کی سکنیہ سمردھی یوجنا اور دیگر بچت اسکیموں کے بارے میں عوام کو آگاہ کر رہے ہیں۔
10×10 کے کمرے پر سینکڑوں لوگوں کا انحصار
اگرچہ اس عمارت کی دیواریں مٹی کی ہیں اور چھت خستہ حال ہے، لیکن مقامی لوگوں کے لیے یہی ڈاک خانہ مالی تحفظ کا سب سے اہم مرکز ہے۔ پرٹنگا اور آس پاس کے سینکڑوں دیہاتی اپنی ریکرنگ ڈپازٹ (RD)، سکنیہ سمردھی یوجنا اور دیگر بچت کھاتوں میں رقم جمع کرانے کے لیے اسی چھوٹے سے کمرے پر انحصار کرتے ہیں۔
مقامی خواتین کا کہنا ہے کہ جب وہ یہاں رقم جمع کرانے آتی ہیں تو عمارت کی خستہ حالت دیکھ کر خوف محسوس کرتی ہیں۔ ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہاں جدید اور ڈیجیٹل سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔
پکی عمارت اور جدید سہولیات کا مطالبہ
اس سنگین مسئلے پر مقامی باشندوں نے ضلع انتظامیہ اور ڈاک محکمے کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ پرٹنگا ڈاک خانے کے لیے فوری طور پر ایک نئی پکی عمارت اور جدید ڈیجیٹل انفراسٹرکچر فراہم کیا جائے۔
دیہی باشندوں کا کہنا ہے کہ دور دراز علاقوں میں بینکاری اور مالی خدمات کا واحد سہارا یہی ڈاک خانہ ہے، اس لیے اسے صرف کاغذوں میں ’ڈیجیٹل‘ بنانے کے بجائے زمینی سطح پر بھی مضبوط بنایا جانا چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ ڈاک کے اعلیٰ حکام اس تاریخی ڈاک خانے کی حالتِ زار پر کب توجہ دیتے ہیں اور اس مٹی کے مکان کو کب ایک محفوظ اور پکی چھت نصیب ہوتی ہے۔







