
نئی دہلی : مغربی بنگال کی سیاست میں آج ایک بڑا سیاسی منظرنامہ سامنے آنے جا رہا ہے، جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کے مضبوط گڑھ بھوانی پورمیں طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔ کولکتہ کے اس ہائی پروفائل حلقے میں آج بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوارسویندو ادھیکاری کی نامزدگی داخل کی جائے گی، جس میں خود امیت شاہ شرکت کریں گے۔ اس سیاسی سرگرمی کو بنگال کی سیاست میں ایک بڑے پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بھوانی پور کو طویل عرصے سے ممتا بنرجی کا ناقابل تسخیر قلعہ سمجھا جاتا ہے۔ ایسے میں امت شاہ کی براہ راست موجودگی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے ایک جارحانہ سیاسی حکمت عملی مانا جا رہا ہے۔ امت شاہ بدھ کی رات ہی کولکاتا پہنچ چکے ہیں اور آج بھوانی پور کی گلیوں میں ایک شاندار روڈ شو کے بعد سویندو ادھیکاری کی نامزدگی داخل کرائی جائے گی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ محض ایک انتخابی پروگرام نہیں بلکہ ممتا بنرجی کے اثر و رسوخ کو براہ راست چیلنج ہے۔
یاسی تاریخ بتاتی ہے کہ بی جے پی عام طور پر اجتماعی قیادت کے ساتھ انتخابات لڑتی ہے، لیکن امت شاہ جیسے بڑے رہنما کا کسی ایک امیدوار کی نامزدگی میں ذاتی طور پر شرکت کرنا غیر معمولی سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس اقدام کو سویندو ادھیکاری کو ریاستی سطح پر بی جے پی کا سب سے بڑا چہرہ بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ نندی گرام کے اس مضبوط لیڈر کو اب بھوانی پور جیسے اہم حلقے میں اتارنا پارٹی کی بڑی حکمت عملی کا حصہ بتایا جا رہا ہے۔دوسری جانب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے اس طاقت کے مظاہرے کو بی جے پی کی بے چینی قرار دیا ہے۔ پارٹی کی رہنما ڈولا سین نے کہا کہ بنگال کی عوام صرف دیدی کو جانتی ہے اور یہ مظاہرہ بی جے پی کے خوف کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم بی جے پی اس پروگرام کو بنگال میں تبدیلی کی شروعات قرار دے رہی ہے۔
بی جے پی کی حکمت عملی صاف نظر آ رہی ہے کہ وہ سویندو ادھیکاری کو آگے رکھ کر عوام کو یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ ان کے پاس ایسا لیڈر موجود ہے جو ممتا بنرجی کو ان کے اپنے قلعے میں چیلنج کر سکتا ہے۔ اس سیاسی مقابلے کو “ممتا بمقابلہ سویندو” کی بڑی جنگ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر سویندو ادھیکاری بھوانی پور میں کوئی بڑا الٹ پھیر کرنے میں کامیاب رہتے ہیں تو 2026 کے اسمبلی انتخابات کے لیے ان کی وزیر اعلیٰ کی دعویداری مضبوط ہو جائے گی۔ آج کا روڈ شو صرف ایک نامزدگی نہیں بلکہ بنگال کی آئندہ سیاست کی سمت طے کرنے والا اہم موڑ مانا جا رہا ہے۔





