
مغربی بنگال کی سیاست میں انڈین نیشنل کانگریس نے 2026 اسمبلی انتخابات سے قبل بڑا سیاسی دائوں کھیل دیا ہے۔ پارٹی نے تمام 294 نشستوں پر اکیلے انتخابات لڑنے کا اعلان کرتے ہوئے امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ اس فیصلے کو بنگال میں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین واپس حاصل کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
اتحاد سے دوری، ’سولو‘ حکمت عملی پر زور
2021 اسمبلی انتخابات میں کانگریس نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی قیادت والے لیفٹ فرنٹ کے ساتھ مل کر انتخاب لڑا تھا، تاہم پارٹی کو ایک بھی نشست حاصل نہیں ہوئی تھی۔ اس بڑی شکست کے بعد کانگریس نے اس بار اتحاد کی سیاست سے دور رہتے ہوئے اکیلے میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام سے ظاہر ہوتا ہے کہ کانگریس بنگال میں اپنی آزاد شناخت کو دوبارہ قائم کرنا چاہتی ہے۔
بڑے لیڈروں پر بھروسہ
کانگریس نے امیدواروں کی فہرست میں تجربہ کارلیڈروں کو نمایاں جگہ دی ہے۔ادھیر رنجن چودھری کو بہرام پور سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ پانچ مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہنے والے ادھیر چودھری 2024 لوک سبھا انتخابات میں یوسف پٹھان سے شکست کھا گئے تھے، جس کے بعد انہوں نے ریاستی صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اب اسمبلی انتخابات کو ان کی سیاسی واپسی کا موقع سمجھا جا رہا ہے۔ اسی طرح سابق راجیہ سبھا رکن موسم نور کو مالدا ضلع کے مالتی پور سے ٹکٹ دیا گیا ہے۔ وہ پہلے کانگریس میں تھیں، بعد میں ترنمول کانگریس میں شامل ہوئیں اور اب دوبارہ کانگریس کے ٹکٹ پر میدان میں اتری ہیں۔ کانگریس نے بھوانی پور سیٹ سے پردیپ پرساد کو امیدوار بنا کر ممتا بنرجی کو براہ راست چیلنج دینے کا اشارہ دیا ہے، جبکہ بالی گنج سے روہن مترا کو امیدوار بنایا گیا ہے، جو مرحوم رہنما سومن مترا کے بیٹے ہیں۔
سماجی توازن بنانے کی کوشش
کانگریس نے امیدواروں کے انتخاب میں درج فہرست ذاتوں، قبائلی برادریوں اور مسلم طبقے کو مناسب نمائندگی دی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اپنے روایتی ووٹ بینک کو دوبارہ منظم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ٹی ایم سی سے براہ راست مقابلہ
اگرچہ کانگریس قومی سطح پر انڈیا اتحاد کا حصہ ہے، لیکن بنگال میں اس نے ٹی ایم سی سے الگ ہو کر انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کانگریس ریاست میں خود کو ٹی ایم سی کے متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔
چیلنجز اور امکانات
بنگال کی سیاست اس وقت ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان مرکوز ہے۔ ایسے میں کانگریس کے لیے راستہ آسان نہیں ہوگا۔ مسلم ووٹوں کی تقسیم، کثیر جہتی مقابلہ اور تنظیمی کمزوری جیسے چیلنجز پارٹی کے سامنے ہیں۔اس کے باوجود اکیلے انتخابات لڑنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ کانگریس طویل سیاسی لڑائی کے لیے تیار ہے۔ اب دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ’سولو‘ حکمت عملی پارٹی کو بنگال میں نئی شناخت دلانے میں کامیاب ہوتی ہے یا نہیں۔







