
بہارکے وزیراعلیٰ نتیش کمارنے گزشتہ پیر(30 مارچ، 2026) کوایم ایل سی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کے اس استعفیٰ کے بعد آرجے ڈی ایم ایل سی سنیل کمارسنگھ نے دستخط سے متعلق سوال اٹھایا ہے۔ سنیل سنگھ نے آج (منگل، 31 مئی) کواپنے سوشل میڈیا ہینڈل سے اس سے متعلق پوسٹ کیا ہے۔ حالانکہ پوسٹ میں کہیں بھی نتیش کمارکا ذکرنہیں ہے، لیکن نشانہ انہیں پرہے۔ سنیل کمارسنگھ نے فیس بک پوسٹ میں لکھا ہے، “چھوٹے عہدے کا بھی استعفیٰ کسی مجازشخص کے سامنے پیش کرنا پڑتا ہے، اس لیے یہ چیک کیا جائے کہ استعفیٰ پردستخط اصلی ہیں یا جعلی۔”
استعفیٰ لے کرقانون سازکونسل پہنچے تھے سنجے جھا
آرجے ڈی کی طرف سے یہ سوال اس لئے اٹھایا جا رہا ہے کیونکہ قانون سازکونسل میں استعفیٰ نامہ لے کرجے ڈی یوکے ایم ایل سی سنجے جھا پہنچے تھے۔ خبروں کے مطابق، نتیش کمارنے استعفیٰ نامہ ان کے ہاتھ بھجوایا تھا۔ اسے منظوربھی کرلیا گیا ہے۔ اب آرجے ڈی کے اس بیان کو سیاسی بیان بازی کے طورپردیکھا جا رہا ہے۔ اس پورے معاملے پربحث تیزہوسکتی ہے۔
اشوک چودھری پربھی سنیل سنگھ نے کیا زبانی حملہ
نتیش کمارکے استعفیٰ پرگزشتہ پیرکومیڈیا سے بات چیت میں ان کے قریبی لیڈراشوک چودھری روتے ہوئے نظرآئے تھے۔ اس پربھی سنیل کمارسنگھ نے فیس بک پوسٹ میں طنزکیا ہے۔ اشوک چودھری کا نام لئے بغیرانہوں نے لکھا ہے، “بلوٹوتھ بچہ کے گھڑیالی آنسوکا مطلب کیا ہے؟ جوپوری کہانی کے اصلی سازش کرنے والوں میں سے ایک ہو۔”
واضح رہے کہ نتیش کمارراجیہ سبھا کے لئے منتخب ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 10 اپریل کووہ راجیہ سبھا رکن کے طورپرحلف لیں گے۔ حلف برداری کے بعد وہ وزیراعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے سکتے ہیں۔ ابھی انہوں نے صرف ایم ایل سی کا عہدہ چھوڑا ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ وزیراعلیٰ کی کرسی سے استعفیٰ کب تک دیتے ہیں۔ سیاسی گلیارے میں اگلے وزیراعلیٰ سے متعلق بھی زوروشورسے قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔







