نئی دہلی :مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ڈونلڈ ٹرمپ اوروزیراعظم نریندر مودی کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو نے عالمی سطح پر نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس اعلیٰ سطحی گفتگو میں معروف ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت ایلون مسک بھی شامل تھے، جس نے سفارتی حلقوں میں حیرت اور تجسس پیدا کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال اور خاص طور پر آبنائے ہرمز کی سلامتی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے اور یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی معیشت کو براہ راست متاثر کر سکتی ہے۔
ایلون مسک کی اس گفتگو میں شمولیت کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ عام طور پر اس طرح کی سفارتی بات چیت میں صرف سرکاری عہدیدار شامل ہوتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ انہیں اس کال میں کیوں شامل کیا گیا اور انہوں نے کس حد تک گفتگو میں حصہ لیا۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایلون مسک کی موجودگی ان کے اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلقات میں بہتری کی نشاندہی ہو سکتی ہے۔ گزشتہ سال دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئی تھیں، تاہم موجودہ صورتحال کو تعلقات میں نرمی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ایلون مسک خلائی ٹیکنالوجی، توانائی اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ جیسے شعبوں سے وابستہ ہیں، جن کے اثرات خلیجی ممالک اور بھارت سمیت کئی علاقوں پر پڑ سکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ بھارت میں اپنے کاروبار کو وسعت دینا چاہتے ہیں اور سیٹلائٹ انٹرنیٹ خدمات کے لیے منظوری کے منتظر ہیں۔
رمپ اور مودی گفتگو کے اہم نکات
ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں لیڈروں نے آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کو انتہائی اہم قرار دیا۔ بھارت کے لیے یہ راستہ خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ملک کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے درآمد ہوتی ہے۔نریندر مودی نے اس گفتگو کو مفید قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے میں امن قائم رکھنے اور کشیدگی کم کرنے کے حق میں ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں بھی واضح کیا کہ اس اہم سمندری راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ قابل قبول نہیں ہوگی کیونکہ اس سے تجارت، تیل، گیس اور کھاد کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے۔ایران بحران کے باعث دنیا بھر میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے اور کئی ممالک میں سپلائی کو لے کر تشویش پیدا ہو گئی ہے۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس اور بھارتی حکومت کی جانب سے ایلون مسک کی اس گفتگو میں شمولیت پر کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔ خود ایلون مسک نے بھی اس معاملے پر فی الحال خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔اس غیر معمولی سفارتی رابطے کے بعد عالمی سطح پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ آیا یہ بات چیت ایران بحران میں نرمی کا سبب بنے گی یا نہیں، تاہم فی الحال دنیا بھر کی نظریں اس پیش رفت پر مرکوز ہیں۔







