
تہران: مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے دوران ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کی اطلاعات نے خطے میں تشویش کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حالیہ حملوں میں گیس تنصیبات اور ایک اہم پائپ لائن کو نشانہ بنایا گیا، تاہم بڑے پیمانے پر نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
اصفہان میں گیس تنصیبات بنے نشانہ
فارس نیوز ایجنسی کے مطابق وسطی ایران کے شہر اصفہان میں کاویہہ اسٹریٹ پر واقع گیس ایڈمنسٹریشن بلڈنگ اور گیس پریشر ریگولیشن اسٹیشن کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں معمولی نقصان ہوا، لیکن صورتحال کو قابو میں رکھا گیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے، جس کے باعث ان واقعات کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
خرم شہر میں پائپ لائن پر حملہ
جنوب مغربی ایران کے شہر خرم شہر میں واقع پاور پلانٹ کی گیس پائپ لائن کو بھی نشانہ بنانے کی اطلاع ملی ہے۔ مقامی حکام کے مطابق پائپ لائن کے قریب ایک پروجیکٹائل گرا، تاہم اس سے نہ تو پاور پلانٹ کے کام میں کوئی خلل پڑا اور نہ ہی کسی جانی نقصان کی خبر ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
امریکی موقف اور متضاد صورتحال
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ بیان میں ایران کے توانائی کے مراکز پر حملے نہ کرنے کی بات کہی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ تاہم زمینی حقائق اس کے برعکس نظر آ رہے ہیں، جس سے عالمی برادری میں تشویش پیدا ہو گئی ہے کہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔
ایران کا سخت ردعمل اور مطالبات
ایران نے ان حملوں کے بعد واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آ کر پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ جب تک ملک کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں کیا جاتا، کارروائیاں جاری رہیں گی۔ مجتبیٰ خامنہ ای کے قریبی ذرائع کے مطابق ایران نے امریکہ سے اقتصادی پابندیاں ختم کرنے اور آئندہ مداخلت نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے ڈھانچے پر اس طرح کے حملے عالمی منڈیوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ اس سے نہ صرف تیل اور گیس کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ اور معاشی عدم استحکام بھی پیدا ہو سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اب ایک حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں کسی بھی نئے واقعے سے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے اور عالمی طاقتیں اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔





