
نئی دہلی: لینڈ فار جاب معاملے میں راشٹریہ جنتا دل کے سربراہ لالو پرساد یادو کو دہلی ہائی کورٹ سے بڑا جھٹکا لگا ہے۔ منگل کے روز عدالت نے ان کے خلاف درج مرکزی تفتیشی بیورو کے کیس کو خارج کرنے سے صاف انکار کر دیا۔
عدالت نے دلیل مسترد کر دی
درحقیقت، لالو پرساد یادو نے عدالت میں عرضی دائر کرتے ہوئے یہ دلیل دی تھی کہ سی بی آئی نے ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ضروری منظوری حاصل نہیں کی، اس لیے پورے کیس کو منسوخ کیا جانا چاہیے۔ حالانکہ، عدالت نے اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عرضی میں کوئی دم نہیں ہے۔
عدالت نے اپنے تبصرے میں واضح کیا کہ پیش کی گئی دلیلیں کیس کو ختم کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں، جس کے بعد عرضی کو خارج کر دیا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی جاری رہے گی۔
کیا ہے لینڈ فار جاب معاملہ؟
یہ معاملہ ان الزامات سے جڑا ہے کہ 2004 سے 2009 کے درمیان بطور ریلوے وزیر اپنے دور میں لالو پرساد یادو نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے ریلوے میں تقرریاں کیں اور اس کے بدلے میں اپنے خاندان کے افراد یا قریبی اداروں کے نام زمینیں منتقل کروائیں۔
مرکزی تفتیشی بیورو کے مطابق امیدواروں یا ان کے رشتہ داروں نے مبینہ طور پر مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر زمین منتقل کی، جو ریلوے کی مختلف نوکریوں کے بدلے دی گئی۔ حالانکہ، لالو پرساد یادو اور ان کے اہل خانہ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے خود کو بے قصور قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس معاملے کو قانونی بنیادوں پر لڑیں گے۔
ای ڈی کی بھی جانچ جاری
آپ کو بتاتے چلیں کہ اس معاملے میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ بھی تحقیقات کر رہا ہے۔ ای ڈی نے لالو پرساد یادو، ان کی اہلیہ رابڑی دیوی اور بیٹے تیجسوی یادو سمیت دیگر کو منی لانڈرنگ کا ملزم قرار دیا ہے۔
ای ڈی کے مطابق، جب لالو پرساد یادو ریلوے وزیر تھے، تب ‘گروپ ڈی’ کی نوکریوں کے بدلے لوگوں سے زمینیں لی گئیں۔ ان زمینوں کو اکثر براہ راست لالو خاندان کے بجائے ’اے کے انفوسسٹمز‘ کمپنی کے نام پر لیا گیا، جو امت کاتیال کی ملکیت ہے اور انہیں لالو اور تیجسوی یادو کا قریبی ساتھی مانا جاتا ہے۔ 2014 میں اس کمپنی کے تمام اختیارات اور اثاثے رابڑی دیوی اور میسا بھارتی کے نام کر دیے گئے۔







